مضمرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا تاکہ وقتی فائدہ طویل المدتی نقصان میں تبدیل نہ ہو۔ سرحد پار کارروائی کی قیمت صرف عسکری نہیں، سیاسی اور سفارتی بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں جانیں ضایع ہوئیں، خاندان اجڑے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ریاست ایک جامع، غیر مبہم اور مستقل مزاج پالیسی اختیار کرے۔ وقتی سیاسی مفادات یا داخلی کشمکش اس قومی ایجنڈے پر حاوی نہیں ہونی چاہیے۔ پارلیمان کو اس موضوع پر متفقہ اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو داخلی تقسیم کا فائدہ نہ مل سکے۔
بلوچستان کی خصوصی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں کے عوام کو ترقیاتی منصوبوں میں حقیقی شراکت داری دینا، مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا، اور سیاسی عمل کو مضبوط بنانا دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اگر عوام خود کو ریاست کا حصہ محسوس کریں گے تو بیرونی ایجنڈے کے لیے جگہ تنگ ہو جائے گی۔ احساسِ شمولیت دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔
خطے کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پراکسی جنگیں کبھی یک طرفہ نہیں رہتیں۔ آج اگر کوئی ملک دوسرے کے خلاف پراکسی استعمال کرتا ہے تو کل وہی ہتھیار اس کے اپنے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتوں کو اس خطرناک کھیل سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جنوبی ایشیا کو اسلحے کی دوڑ نہیں، معاشی تعاون اور انسانی ترقی کی دوڑ درکار ہے۔
اگر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ کیا گیا تو اس کے اثرات محض سیکیورٹی تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ تعلیمی اداروں، مساجد، بازاروں اور گھروں تک پھیل جائیں گے۔ خوف کا ایسا ماحول جنم لے گا جس میں تخلیقی سوچ، معاشی سرگرمی اور سماجی ہم آہنگی دم توڑ دے گی۔ سرمایہ کاری رک جائے گی، ہنر مند افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں گے، اور ریاستی وسائل کا بڑا حصہ ترقی کے بجائے سیکیورٹی پر صرف ہوتا رہے گا۔اس کے برعکس اگر ریاست دانشمندی، مستقل مزاجی اور جامع حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو یہ بحران ایک موقع بھی بن سکتا ہے۔ داخلی اصلاحات، علاقائی سفارت کاری اور قومی یکجہتی کے ذریعے پاکستان نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتا ہے بلکہ خطے میں امن کا ضامن بھی بن سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ پالیسی میں ابہام نہ ہو، ترجیحات واضح ہوں اور عملدرآمد میں تاخیر نہ کی جائے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان داخلی استحکام کو اولین ترجیح دے، سفارتی محاذ پر فعال کردار ادا کرے، اور خطے میں امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کو آگے بڑھائے۔ پراکسی جنگوں کا انجام کبھی فریقین کے حق میں نہیں ہوتا، وہ پورے خطے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ اگر آج دانشمندی، جرات اور بصیرت سے کام نہ لیا گیا تو کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔ دہشت گردی کے خلاف یہ معرکہ صرف بندوق کا نہیں، بیانیے، معیشت، انصاف اور قومی یکجہتی کا بھی ہے اور اسی ہمہ جہتی حکمت عملی میں پاکستان اور پورے خطے کا محفوظ اور مستحکم مستقبل مضمر ہے۔