پانی کو ہتھیار بنانے کی بھارتی کوشش قبول نہیں، پاکستان اپنے آبی حقوق کا دفاع کرے گا، عطاء اللہ تارڑ

 

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کو پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ طور پر ترمیم، تنسیخ یا اسے معطل نہیں کیا جاسکتا۔انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والا ایک قانونی معاہدہ ہے، جو اس کے فریقین کے حقوق و ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے اور دونوں پر قانونی طور پر لازم ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی تنازع کی صورت میں بھی دونوں ممالک معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ اگست 2025 میں عدالتِ ثالثی کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کو تقویت دی اور واضح کیا کہ معاہدے کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے یکطرفہ اقدام نہیں کیا جاسکتا۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے کو سفارتی انداز میں اٹھایا اور عالمی برادری کے سامنے اپنا قانونی اور سفارتی مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں واضح کیا تھا کہ دریائے سندھ پاکستان اور خطے کے عوام کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، جبکہ اس حق کو چھیننے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان سنجیدگی سے لے گا۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے اور وزارت خارجہ سمیت وزارت اطلاعات و نشریات عالمی اداروں اور خطے کے ممالک سے رابطے میں ہیں۔عطاء اللہ تارڑ نے بھارت کی جانب سے مبینہ سرحد پار دہشت گردی کو اپنے اقدامات کے جواز کے طور پر پیش کرنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ جانوں کا نقصان اٹھا چکا ہے جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔انہوں نے کہا کہ پانی کو ہتھیار بنانے اور سندھ طاس معاہدے کو متنازع بنانے کی کوششوں کو قانونی، سفارتی اور اخلاقی سطح پر جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق متعدد ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے جبکہ بین الاقوامی قانونی فورمز بھی معاہدے میں یکطرفہ تبدیلی یا تنسیخ سے متعلق اس کی شقوں پر واضح مؤقف دے چکے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور امن پر یقین رکھتا ہے، تاہم 24 کروڑ پاکستانیوں کے بنیادی آبی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اس تنازع کے وسیع تر عالمی اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ عطاء اللہ تارڑ کے مطابق اگر کوئی ریاست یکطرفہ طور پر ایک پابند بین الاقوامی آبی معاہدے کو معطل کردے اور پہلے سے موجود تنازع کے حل کے طریقہ کار کو نظرانداز کرے تو اس کے اثرات دنیا بھر میں سرحد پار پانی کی تقسیم کے معاہدوں پر پڑ سکتے ہیں۔انہوں نے تحقیقی اداروں پر زور دیا کہ وہ ان پیش رفت کا تاریخی، قانونی اور تزویراتی جائزہ لے کر پالیسی سازوں اور عالمی برادری کو شواہد پر مبنی تجزیہ فراہم کریں۔سیمینار میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق ایک خصوصی رپورٹ بھی جاری کی گئی، جس میں معاہدے کی تاریخ، بھارت کے اقدامات کے قانونی پہلو، بالائی علاقوں میں آبی انفرااسٹرکچر کی پیش رفت اور پاکستان و خطے پر اس کے تزویراتی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت پاکستان بین الاقوامی برادری سے رابطے جاری رکھے گی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ملک کے اہم قومی مفادات کا دفاع کرتی رہے گی۔