آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے زیراہتمام اووسیز پاکستانیز فاونڈیشن کے تعاون سے منعقدہ اوورسیز کشمیریز کنونشن 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانی اور کشمیری ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیج کر ملکی معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ اوورسیز کنونشن میں اتنے دور سے آنے پر آپ کا شکرگزار ہوں، اوورسیز کمیونٹی ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی ہے، زلزلہ زدگان کی بحالی سمیت ہر موقع پر ان کا کردار لائق تحسین رہا۔وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے اوورسیز کو پاکستان کے سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کوششوں سے مسئلہ کشمیر دنیا بھر میں اجاگر ہو رہا ہے۔انجینئر امیرمقام نے آزاد کشمیر حکومت اور وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور ملک کو اوورسیز کشمیریوں کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں منعقد کیا گیا اوورسیز کنونشن ایک مثبت اور قابل تعریف قدم تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے آزاد کشمیر کے لیے دیے گئے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے یہاں ایسے منصوبے بھی دیے جو عوام کی ڈیمانڈ میں بھی شامل نہیں تھے، جن میں پانچ دانش اسکول شامل ہیں جبکہ مستقبل میں دانش یونیورسٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جدید موٹر وے منصوبہ، خصوصاً مظفرآباد، میرپور اور مانسہرہ موٹر وے جلد کام شروع ہونے کی امید ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں سےکشمیری عوام پر ظلم جاری ہے، دو لاکھ سے زائد گھر مسمار کیے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں کشمیری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کشمیری عوام کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ“کشمیری اپنے شہداء کو پاکستانی پرچم میں دفناتے ہیں، یہ جذبہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد مسئلہ کشمیر پوری دنیا میں ایک فلش پوائنٹ بن چکا ہے اور دس مئی کے بعد پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی لیڈر شپ کی بدولت دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔
آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز کشمیریز کنونشن کا انعقاد حکومت آزادکشمیر کا اچھا اقدام ہے۔ اوورسیز کشمیریوں کے ساتھ مل کر ہم ریاست کی ترقی اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ اوورسیز کشمیری عام لوگ نہیں ملکی معیشت کا مضبوط ستون ہیں جو معیشیت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اوورسیز کشمیری ہارڈ ورکر اور دیانتدار لوگ ہیں۔ آپ نے ہمیشہ ملک کے وقار کو بلند کیا۔ اوورسیز کشمیریوں کا دل ہمارے ساتھ دھڑکتا ہے۔ آپ یہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن شاید ہم آپ کو مواقع نہیں دے سکے۔ مگر یہ حکومت آزادکشمیر کا اچھا اقدام ہے کہ آپ کو یہاں اکٹھا کیا اور آپ کے مسائل سن رہے ہیں۔ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ہندوستان کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے مکر گیا ہے لیکن ریاست پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی رائے کا احترام کیا۔ ہندوستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کے وعدے سے مکر گیا ہے لیکن پاکستان اپنے اس وعدے پر آج بھی قائم ہے۔ آزادکشمیر کی سیاست کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قومی ایشوز پر آزادکشمیر کی ساری سیاسی قیادت ایک میز پر بیٹھ کر اتفاق رائے سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ دریائے جہلم کے اس پار اس کا فقدان ہے۔ ہم آزادکشمیر میں دشمنی کی نہیں بلکہ تعمیری اپوزیشن کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے مہاراجہ سے ہندوستان کے فیصلہ کو قبول نہیں کیا اور بغاوت کی جس کے نتیجہ میں مسئلہ پیدا ہوا۔ ہمیں پاکستان کے ساتھ شامل ہونا تھا لیکن مہاراجہ نے ہمارا حق چھینا اس لیے ہماری منزل الحاق پاکستان ہے۔ آزادکشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے لیکن مجھے شبہ ہے کہ کچھ لوگ یہاں ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے یہاں عدم استحکام آئے۔ آزادکشمیر میں لوگ خود اپنی حکومت منتخب کرتے ہیں۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں لوگ قید ہیں اور اپنی مرضی سے حکومت نہیں منتخب کر سکتے۔ ہم اس ریاست کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیں گے۔ یہ نظام حکومت ایک دن میں نہیں ملا نہ ہی اسکی آزادی کسی تحفہ میں ملی یے۔ اس کے پیچھے غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان، مجاہد اول سردار عبداالقیوم خان اور کے ایچ خورشید کی کاوشیں اور شہداء کی قربانیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آزادکشمیر میں جمہوریت کی گاڑی کو اسی طرح رواں دواں رکھنا ہے۔ یہاں بہت احتجاج ہوئے اور مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کی بات کی۔ میں نے کہا اسکا متبادل بھی دیں لیکن ہماری سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ اسوقت مقبوضہ کشمیر میں 42 لاکھ ہندووں کو ریاست کو سٹیٹ سبجیکٹ دیایا گیا ہے جبکہ ہم اپنے 6 لاکھ مہاجرین کو حق نمائندگی سے مرحوم کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے یہاں کا ماحول خراب ہو۔ آزادکشمیر میں وقت پر انتخابات ہوتے ہیں اور کبھی جمہوریت میں رخنہ نہیں پڑا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان سیاستدانوں نے کیا دیا ریاست کو تو میں انکو بتا دینا چاہتا ہوں کہ 1947 میں یہاں نہ یونیورسٹی تھی، نہ ڈگری کالج نہ میڈیکل کالج اور آج دیکھیں ریاست میں کتنے سٹیٹ آف دی آرٹ بڑے تعلیمی ادارے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں عمر عبداللہ فائلیں بھیجتے ہیں اور گورنر جنرل سے دستخط نہیں ہوتے ایک پولیس افسر کا وہ تبادلہ نہیں کر سکتے اور ہمارا وزیراعظم کتنا بااختیار ہے یہ ہم سب بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے 13 حلقہ انتخاب لائن آف کنٹرول پر واقع ہیں جہاں ہماری فوج کے جوان برف میں کھڑے ہو کر ہماری حفاظت کر رہے ہیں۔ میں ان کو سلوٹ نہ کروں تو کس کو کروں۔ مجھے سہولت کار کہنے والے سن لیں مجھے ریاست اور پاکستان کا سہولت کار ہونے پر فخر ہے۔ وزیراعظم پاکستان ریاست کی بھرپور مالی مدد کر رہے ہیں میں انکا شکر یہ کیوں نہ ادا کروں۔ میں افواج پاکستان اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انکی قیادت میں افواج پاکستان ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے۔
کنوینئر آل پارٹیز حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوررسیز کشمیریوں کا تعلق مسئلہ کشمیر کے ساتھ بہت گہرا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی خواہشات مطابق رائے شماری سے ہونا ہے۔ رائے شماری میں ریاست جموں کشمیر میں مقیم ہر مذہب کے لوگوں نے حصہ لینا ہے۔ کشمیریوں نے 1947 میں الحاق پاکستان کی جس منزل کا تعین کیا آج بھی وہ اسی فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم آج سب کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ کشمیریوں کی منزل الحاق پاکستان ہے۔پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ الحاق کے فیصلے کے بعد میں کشمیریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کس طرح کے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز کشمیریوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر آج تک حل کیوں نہیں ہو سکا۔ اوورسیز کشمیریوں کا کام بیرون ملک لابنگ کرنا اور مسئلہ کشمیر کے اصل حقائق بیرونی دنیا کو دیکھانے ہیں۔ اس مسئلہ میں بڑی رکاوٹ ہندوستان کی ہٹ دھرمی، اقوام متحدہ کی بے بسی، عالمی طاقتوں کی عدم دلچسپی، سوویت یونین کی ہندوستان کے حق میں ویٹو پاور کا استعمال ہے۔ معرکہ حق سے پہلے ہندوستان کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل تھی لیکن بنیان المرصوص کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے اور اب دنیا مسئلہ کشمیر پر بات کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیریوں کے لیے جینا محال کر رکھا ہے۔ میں آج آزاد کشمیر کے ان نوجوانوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جو حق خودارادیت کی اس جدوجہد پر قربان ہو گئے۔ میں آج پوری حریت کانفرنس کی طرف سے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کو جہنم زار بنا رکھا ہے۔ جموں وکشمیر کو ایک خوبصورت قید کی وادی بنا دیا گیا ہے۔ ایسے میں اوورسیز کشمیری اپنا کردار زیادہ موثر طریقے سے ادا کر سکتے ہیں۔ ہمارے قائدین کو قید کر کے رکھا گیا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا رہی ہے۔ ہندوستان دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ اب مقبوضہ کشمیر میں کوئی تحریک نہیں۔ لیکن ایسا ہندوستان پہلے بھی کر چکا ہے لیکن ہر مرتبہ کشمیری آٹھ کھڑا ہوتا ہے اور ہندوستان کو للکارتاہے کہ تم کشمیریوں سے انکی منزل نہیں چھین سکتے۔ میں آج یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیری حق خودارادیت سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہونگے۔ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحد کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ ہماری پوری توجہ اسی پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آزادکشمیر تعمیر وترقی کی ایک ماڈل سٹیٹ بن جائے۔ لیکن ہندوستان اگر مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پر تارکول کے بجائے سونا چاندی اور جواہرات بھی بچھا دے پھر بھی ہم حق خودارادیت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم کشمیر کے مسئلہ پر سہ فریقی مذاکرات چاہتے ہیں۔ جس میں ہندوستان ایک غاصب کی حیثیت سے، پاکستان حق خودارادیت کے حامی کی حیثیت سے جبکہ کشمیری بطور بیسک فریق مذاکرات میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی ایسی ثالثی کو قبول نہیں کریں گے جس میں انڈیا کے سٹریٹیجنک پارٹنر ہوں۔ البتہ اگر چائینہ اور ترکیہ ثالثی کے لیے آتا ہے تو یہ ہمیں قبول ہے۔
آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے زیراہتمام اووسیز پاکستانیز فاونڈیشن کے تعاون سے منعقدہ اوورسیز کشمیریز کنونشن 2026 سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن سید قمر رضا نے اوورسیز پاکستانیوں اورکشمیریوں کے ملکی معیشت میں کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اوورسیز کمیونٹی ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی کسی بھی صورت میں قوم سے الگ نہیں ہیں بلکہ وہ ملک کے وہ محنت کش سپوت ہیں جو معاشی بہتری کے لیے دیارِ غیر میں جا کر کام کرتے ہیں۔ کچھ افراد مشرق وسطیٰ جبکہ کچھ مغربی ممالک میں روزگار کے لیے گئے، مگر ان کی کمائی کا بڑا حصہ پاکستان اور کشمیر کی معیشت کو مضبوط بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔چیئرمین نے بتایا کہ اوورسیز پاکستانی اور کشمیری پاکستان کے فارن ایکسچینج کا تقریباً 80 فی صد حصہ بھیجتے ہیں، گزشتہ سال انہوں نے 33.5بلین ڈالر بھیجا جبکہ اس سال یہ بڑھ کر 41بلین ڈالر تک پہنچے گا اور پاکستان کے فارن ایکسچینج ذخائر بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن نے حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے اوورسیز کمیونٹی کے لیے قائم کیے گئے خصوصی ڈیسک، کمپلینٹ پورٹل اور دیگر سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کشمیر کی ترقی کے لیے نجی شعبے کو آگے لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھا کر روزگار پیدا کیا جا سکتا ہے، جس سے عام کشمیری کو خوشحالی میسر آئے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن ملک اور اوورسیز کمیونٹی کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی رہے گی اور جہاں بھی ممکن ہوا، اپنی خدمات جاری رکھے گی۔
اوورسیز رہنما بیرسٹر عابد نے کہا کہ تاریخی اوورسیز کشمیریز کنونشن کے انعقاد پر حکومت اور او پی ایف کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے سامعین کو اپنی لکھی گئی نظمیں بھی سنائیں جن میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام، پاکستان اور وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ساری مسلم امہ ایک وجود کی طرح ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے سابق ڈپٹی سیکرٹری فاروق کرمانی نے اپنی زندگی کے تجربات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل کے دوران کم علمی کی بنیاد پر دو قومی نظریہ پر یقین نہ رکھنا میری زندگی کی بہت بڑی غلطی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کے تجربات اور مطالعے سے مجھ پر یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ دو قومی نظریہ ایک حقیقت ہے اور نہ صرف کشمیر کی آزادی بلکہ جنوبی ایشیاء میں امن کا ضامن صرف مضبوط پاکستان ہے، انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تعجب ہوتا ہے جب میں یہاں ہمارے بھائیوں کو اپنی آزادی کی قدر نہ کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، آزادی کی قدر کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب مقبوضہ جموں وکشمیر میں پاسپورٹ کے حصول کیلئے ڈپٹی سیکرٹری ہوتے ہوئے بھی مجھے 05 سال لگ گئے۔ انہوں نے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی زندگی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جو سہولیات اور آزادی آزاد کشمیر میں دستیاب ہیں مقبوضہ کشمیر میں اس کا تصور نہیں ہے۔ اگر آپ آزاد ہیں تو آپ کے پاس سب کچھ ہے اور اگر آپ آزاد نہیں ہیں تو ہیرے، جواہرات بھی آپ کے کسی کام نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری زندگی کے تجربات کی روشنی میں یہ کہ سکتا ہوں کہ کشمیریوں کی بہترین منزل الحاق پاکستان ہے، اور مضبوط افواج پاکستان ہی نہ صرف کشمیریوں کی آزادی بلکہ جنوبی ایشیا میں امن کی ضامن ہیں۔
کوآرڈینیٹر برائے اوورسیز کشمیریز اظہر بڑالوی نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کو اوورسیز کشمیریز کے مسائل کو حل کرنے کے لئے تاریخی کنونشن کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے نہ صرف ریاستی نظام پر عوام کے اعتماد کو بحال کیا بلکہ اوورسیز کشمیریز کے مسائل کے حل کیلئے بھی تاریخی اقدامات کئے جس پر میں اوورسیز کشمیریز کی جانب سے وزیراعظم آزاد کشمیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں اس موقع پر معرکہ حق میں بھارت کو شکست دے کر دنیا میں پاکستان کا وقار بلند کرنے پر اپنی بہادر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے اوورسیز کشمیریز کے مسائل کے حل کیلئے آزاد کشمیر کے موثر اور فعال کردار کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اوورسیز کشمیریز کی نمائندگی کیلئے قانون ساز اسمبلی میں اوورسیز کشمیریز کیلئے نشستیں مخصوص کرنے کی تجویز بھی رکھی۔