قانون کے مطابق صاف، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہیں ،چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر

چیف الیکشن کمشنر آزادجموں وکشمیر جسٹس(ر) غلام مصطفیٰ مغل نے آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے آمدہ انتخابات 2026کے حوالہ سے ووٹرز کے نام اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن قانون کے مطابق صاف، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے۔ تمام فیصلے مکمل طور پر قانون اور ضابطے کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ انتخابی فہرستوں کے حوالے سے عوام کی جانب سے متعدد تحفظات اور شکایات موصول ہوئیں۔ تاہم واضح کیا جاتا ہے کہ ووٹرز کی جو فہرست جاری کی گئی ہیں وہ ابتدائی اور عارضی فہرستیں ہیں۔ ان فہرستوں کا مقصد خامیوں اور نقائص کی نشاندہی کرنا تھا تاکہ ان کی بروقت اصلاح ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سسٹم میں تکنیکی خرابی کے باعث بعض ووٹر فہرستوں میں کچھ خامیاں پائی گئیں جبکہ کچھ ووٹر کا اندراج فہرستوں سے رہ گیا۔ ایسے ووٹوں کی مجموعی تعداد تقریباً 27 ہزار تھی۔ اسی نوعیت کے مسائل نیلم، مظفرآباد، کوٹلی، منگ، کھڑی شریف، چکسواری، باغ، دھیرکوٹ اور دیگر مختلف علاقوں میں سامنے آئے۔ جونہی الیکشن کمیشن کو اس صورتحال کا علم ہوا تو فوری طور پر ہم نے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی اور تمام ڈپٹی کمشنرز کا اجلاس طلب کیا جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن کمشنرز کے ساتھ آن لائن میٹنگ بھی کی گئی۔چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ ووٹر فہرستوں کی درستگی کے حوالہ سے چیئرمین نادرا سے بھی تفصیلی ملاقات کی گئی اور انہیں معاہدے کے مطابق غلطیوں کو درست کرتے ہوئے ووٹر لسٹ کی تیاری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ جس پر نادرا کی جانب سے بھرپور تعاون کیا گیا اور فوری طور پر کام کا آغاز کر دیا گیا۔ پہلے ہی روز تقریباً 27 ہزار غیر شناخت شدہ ووٹوں کی نشاندہی کر لی گئی جبکہ تکنیکی خرابی کی وجہ بھی معلوم کر لی گئی۔ اس وقت بھی الیکشن کمیشن کی ٹیم نادرا آفس میں موجود ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کام جاری ہے۔ گزشتہ روز تین سے چار اضلاع کی ووٹر فہرستوں کی درستگی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ آج باقی اضلاع پر کام جاری ہے۔ تمام خامیوں کو مرحلہ وار دور کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ 2016 کی طرح درست اور مکمل ووٹر فہرستیں عوام کو فراہم کی جائیں گی اور اس حوالے سے ووٹرز کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کی تاریخ میں بھی توسیع کر دی گئی ہے اور ابھی مزید تین سے چار دن باقی ہیں۔ جو ووٹ اب بھی درج نہیں ہو سکے انہیں قانون کے مطابق براہ راست ریوائزنگ اتھارٹی کے پاس رجسٹر کروایا جا سکتا ہے۔ ایک شکایت جموں و کشمیر کے مہاجرین کے ووٹوں کے حوالے سے بھی موصول ہوئی تھی جس کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح منگلا ڈیم سے متاثرہ افراد کے ووٹوں کے بارے میں بھی تحفظات سامنے آئے تھے کہ جن افراد نے معاوضہ یا پلاٹ حاصل کیا ہے آیا وہ مہاجرین تصور ہوں گے یا نہیں۔ اس حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمی بھی دور کر دی گئی ہے۔ میرپور میں ڈیم کی تعمیر کے باعث بے گھر ہونے والے افراد جہاں بھی مقیم ہیں، انہیں وہاں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے اور متعلقہ ہدایات ریوائزنگ اتھارٹیز کو جاری کر دی گئی ہیں۔ ان شاء اللہ 16 یا 18 مئی تک فہرستوں کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ اگر خدانخواستہ ایک دو دن کی تاخیر ہوئی تو تاریخ میں مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ اس لیے عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فطری بات ہے کہ ووٹرز اس وقت تشویش محسوس کرتے ہیں جب انہیں اپنے ووٹ نظر نہیں آتے، تاہم الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ فعال کر دی گئی ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کو روزانہ تقریباً 600 سے 700 شکایات واٹس ایپ، فون کالز اور تحریری درخواستوں کے ذریعے موصول ہو رہی ہیں، جنہیں روزانہ کی بنیاد پر نمٹایا جا رہا ہے اور عوامی شکایات کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل انتخابات تک مسلسل جاری رہے گا۔ آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن صاف، شفاف اور غیرجانبدارنہ انتخابات کو یقینی بنائے گا۔