عالمی پیغام اسلام کانفرنس میں شرکت کا موقع ملنا میرے لیے باعثِ فخر، سعادت اور ذمہ داری ہے۔ وزیر آعظم آزاد کشمیر

 

آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ آج اس عظیم الشان چھٹی عالمی پیغام اسلام کانفرنس میں شرکت کا موقع ملنا میرے لیے باعثِ فخر، سعادت اور ذمہ داری ہے۔ میں پاکستان علماء کونسل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، عالمی امن اور اسلام کے حقیقی پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے یہ اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم فراہم کیا۔ خاص طور پر فلسطین کے معزز مہمانانِ خصوصی کا پر تپاک خیر مقدم کرتا ہوں۔ آپ دونوں کی موجودگی اس کانفرنس کی وقعت اور اہمیت میں نمایاں اضافہ کر رہی ہے۔​میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان کی دور اندیش قیادت، اقتصادی استحکام کے لیے کی گئی کوششیں، دفاعی جدید کاری اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی مضبوط سفارت کاری نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کی بنیاد کو مضبوط کیا ہے۔ ان کی قیادت کے تحت پاکستان آج مسلم امہ کے لیے ایک مضبوط، قابل اعتماد اور باوقار ستون بنا ہوا ہے۔وزیراعظم۔نے ان خیالات کا اظہار پیغام پاکستان کے زیر اہتمام بنیان المرصوص کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔اس موقع پر مولانا طاہر اشرفی اور زمرد خان نے بھی خطاب کیا ۔وزجراعہم نے کہا کہ ​اسلام اعتدال، رحمت اور برداشت کا دین ہے، انتہا پسندی کا نہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جس کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا، تاکہ وہ انسانیت کو ظلمت سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں، دلوں کو جوڑیں اور ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جو عدل، محبت اور انسانیت پر قائم ہو۔
​قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
​«اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّھُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ»
​(سورۃ الصف: 4)
یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند فرماتے ہیں جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر کھڑے ہوں جیسے وہ ایک مضبوط، بنیانِ مرصوص (مضبوط دیوار) ہوں۔انہوں نے کہا کہ ​گزشتہ سال جب بھارت نے ہماری سرحدوں اور خود مختاری کی پامالی کی ناجائز کوشش کی تو پوری پاکستانی قوم، افواجِ پاکستان اور قیادت نے بنیانِ مرصوص کی طرح ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر دیوار کی شکل اختیار کر لی۔ پاکستان نے متحد ہو کر اس جارحیت کا فیصلہ کن، بروقت اور منہ توڑ جواب دیا۔ یہ اس بات کی عملی مثال ہے کہ جب امت متحد ہوتی ہے تو کوئی بھی طاقت اسے ہلا نہیں سکتی۔​کشمیر صبر، قربانی اور امن کی علامت ہے۔کشمیر کی جدوجہد انصاف اور حقِ خودارادیت کی جنگ ہے۔ کشمیر کے عوام ایک پرامن قوم ہیں جو اپنے جائز حق، یعنی حقِ خودارادیت کے لیے پُرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی آواز انصاف اور آزادی کی آواز ہے۔ تاہم بدقسمتی سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، بے گناہ نوجوانوں کا قتلِ عام، خواتین کی عزت پر حملے، گھروں میں چھاپے اور بنیادی آزادیوں کی پامالی جاری ہے۔ یہ ظلم و ستم ایک پُرامن قوم کے بنیادی حقوق کو کھلے عام پامال کر رہا ہے۔ یہ صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے کہ آخر کب تک ایک پُرامن قوم کے حقوق کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا۔ ہم اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے فوری عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔​آج فلسطین میں بے گناہ شہریوں، بچوں اور خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی اور فلسطینی بھائیوں پر جاری مظالم پورے مسلم امہ پر حملہ ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کی عوام اور حکومت فلسطین کے بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر موثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرے۔​علماء کا کردار اب مسجد کی چار دیواری سے بڑھ کر ڈیجیٹل دنیا تک پھیل چکا ہے۔آج کے دور میں علماء کے لیے جدید ذرائع ابلاغ اور تعلیمی اداروں کے ذریعے اسلام کے حقیقی پیغام کو اجاگر کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ علماء جدید ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے تعلیم اور تربیت دونوں کے لیے موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں تو امت کو قرآن و سنت کی روشنی میں بہتر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں اور اسلاموفوبیا جیسے چیلنجز کا موثر طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔تعلیم صرف ڈگری نہیں بلکہ کردار سازی بھی ہے۔علماء کے لیے اس سلسلے میں نوجوان نسل کو نہ صرف جدید علم بلکہ اخلاق، کردار اور ذمہ داری کا احساس دلانے کا بہترین موقع ہے۔ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کو بہتر انسان بنائے، اسے ذمہ داری کا احساس دے اور معاشرے کے لیے فائدہ مند شہری بنائے۔ اگر علم کے ساتھ اخلاق اور کردار شامل نہ ہوں تو وہ تعلیم نہیں، صرف معلومات کا انبار رہ جاتا ہے۔ اسلام کا پیغام اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام ہے۔​ہم سب کو مل کر ایک مضبوط اور متحد امت بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے ایک فطری بات ہے مگر ہمیں اسے دلوں کی دوری کا سبب نہیں بننے دینا چاہیے۔ اسلام ہمیں جوڑنے آیا ہے، توڑنے نہیں۔ مضبوط معاشرے وہی ہوتے ہیں جہاں اختلاف کے باوجود ہم ایک دوسرے کا احترام کریں اور ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد رہیں۔ آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اسلام کے اصل پیغام – امن، رحمت اور اتحاد پر اکٹھا ہوں۔​مضبوط خاندان مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔نوجوان اگر صحیح راہ پر آ جائیں تو قوم کا مستقبل روشن ہو جاتا ہے، اور اگر وہ بھٹک جائیں تو یہی قوت سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اس لیے ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ درست سمت، مضبوط کردار اور مثبت سوچ بھی عطا کریں۔ جہاں علم کا خاتمہ ہوتا ہے، وہاں انتہا پسندی جنم لیتی ہے۔​ہمیں اپنے تمام قومی اداروں، عوام اور معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا – بلا کسی سیاسی یا سماجی تفریق کے، انسانیت کی خدمت اور قومی ترقی کے جذبے کے ساتھ۔ ہمیں اسی جذبے کے ساتھ متحد ہو کر ملک و قوم کی بہتری اور استحکام کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔​اس کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کو سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور معاشی و سماجی ترقی کی طرف بڑھنا چاہیے۔ جدید علوم اور ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کیے بغیر ہم عالمی سطح پر اپنے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے۔ آزاد جموں و کشمیر اس سلسلے میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔​ہم بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی امن کی بھی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔اسلام ہمیں دوسروں کے حقوق کا احترام سکھاتا ہے۔ آج کے دور میں جب دنیا مختلف مذاہب، ثقافتوں اور نظریات کا گھر ہے، ہمیں باہمی احترام، مکالمے اور رواداری کو فروغ دینا چاہیے۔ اسلام کا حقیقی پیغام امن، بھائی چارے اور انسانیت کی بھلائی کا ہے، اور ہم اس پیغام کو عملی طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کے پابند ہیں۔​ہم فلسطین اور کشمیر کے مقدس مقاصد کے لیے ہمیشہ پرعزم رہیں گے۔​آج ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم صرف الفاظ تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ کانفرنس امتِ مسلمہ کے اتحاد، فلسطین کی آزادی اور کشمیر کے حقِ خودارادیت کے لیے ایک حقیقی اور تاریخی تبدیلی کا آغاز بنے۔انہوں نے کہا ک ہم فلسطین اور کشمیر کے مقدس مقاصد کے لیے ہمیشہ پرعزم رہیں گے۔​آج ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم صرف الفاظ تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ کانفرنس امتِ مسلمہ کے اتحاد، فلسطین کی آزادی اور کشمیر کے حقِ خودارادیت کے لیے ایک حقیقی اور تاریخی تبدیلی کا آغاز بنے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ “بنیان مرصوص” امتِ مسلمہ کے اتحاد، یکجہتی اور استقامت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے علماء کرام نے ہمیشہ وطنِ عزیز کے استحکام، دفاع اور امن کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج اور عوام نے ہر مشکل وقت میں یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستانی قوم کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام امت کے اتحاد، قومی یکجہتی اور امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔چیئرمین پاکستان بیت المال زمرد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور اس کی بنیاد اسلام، اتحاد اور قربانی کے جذبے پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام معاشرے میں امن، برداشت اور بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال مستحق اور نادار طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے اور معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔کانفرنس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، مذہبی رہنماؤں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پاکستان کی سلامتی، استحکام اور کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔