ایس سی او کی مشترکہ سوچ کو عملی تعاون اور ٹھوس نتائج میں بدلنا ہوگا، اسحاق ڈار

 

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے مشترکہ وژن کو عملی تعاون اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اسلام آباد میں ایس سی او کی قومی رابطہ کار کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تنظیم کی صدارت کے دوران باہمی اعتماد، مساوی مفاد، برابری، مشاورت اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مبنی کھلی، جامع اور تعمیری پالیسی اپنائے گا۔وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں ایس سی او کے رکن ممالک کے قومی رابطہ کاروں، تنظیم کے سیکریٹریٹ اور علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔اسحاق ڈار نے پاکستان کی ایس سی او صدارت کے موضوع ’’وژن کو عمل میں بدلنا: رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی‘‘ کو اجاگر کرتے ہوئے رکن ممالک کے درمیان عملی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت کونسل کے اجلاس کی میزبانی کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا اور کامیاب صدارت کے لیے رکن ممالک کے درمیان قریبی رابطہ کاری پر زور دیا۔پاکستان نے 2026-27 کے لیے ایس سی او کی سربراہانِ مملکت کونسل کی صدارت سنبھالی ہے، جس کے دوران اسلام آباد میں تنظیم کے مختلف اجلاس اور سرگرمیاں منعقد ہوں گی۔قومی رابطہ کار کونسل ایس سی او کی معمول کی سرگرمیوں میں رابطہ کاری اور انتظام کے ساتھ ساتھ سربراہانِ مملکت، سربراہانِ حکومت اور وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاسوں کی تیاریوں کی نگرانی کرتی ہے۔ ہر رکن ملک اپنے داخلی قواعد و ضوابط کے تحت قومی رابطہ کار مقرر کرتا ہے، جبکہ کونسل کا اجلاس سال میں کم از کم تین مرتبہ منعقد کیا جاتا ہے۔