بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب عہدے کا حلف اٹھالیا
مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی 30 ووٹ حاصل کرکے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار خان کو 14 ووٹ ملے۔ انتخاب کے بعد بیرسٹر افتخار گیلانی نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا۔قانون ساز اسمبلی کے پہلے خطاب میں نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے بغیر ادھورے اور نامکمل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھی پنجاب کی طرز پر تبدیلی لائی جائے گی، جس طرح مریم نواز نے پنجاب میں تبدیلیاں کی ہیں۔بیرسٹر افتخار گیلانی نے وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف اور مریم نواز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر محض زمین کے ایک ٹکڑے کا مسئلہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کی بھی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان کی قربانیوں کے باعث کشمیری سکون کی نیند سوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں میرٹ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور سرکاری بھرتیوں کے لیے این ٹی ایس کی طرز پر تھرڈ پارٹی نظام متعارف کرایا جائے گا۔نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ ہر شخص کو سرکاری ملازمت فراہم نہیں کی جاسکتی، اس لیے ریاست کو ڈیجیٹل اکانومی کی جانب لے جایا جائے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کے مسائل موجود ہیں، تاہم معاملات بتدریج بہتری کی جانب جائیں گے۔افتخار گیلانی نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات، عوامی شکایات کے اندراج کے لیے سٹیزن پورٹل کے اجرا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آزاد کشمیر کا روشن مستقبل یقینی بنانے کو حکومت کی ترجیحات قرار دیا۔واضح رہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے 32 ارکان موجود ہیں جبکہ 7 نشستوں پر انتخابات کا عمل تاحال مکمل ہونا باقی ہے۔بیرسٹر افتخار گیلانی پہلی مرتبہ 2011ء میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ موجودہ اسمبلی میں وہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے ایوان کا حصہ بنے۔حکومت سازی کے حوالے سے ہونے والے مشاورتی اجلاس میں رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق، شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر سمیت مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی تھی۔ اجلاس میں نومنتخب اسپیکر چوہدری طارق فاروق، ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری اور دیگر رہنماؤں نے بیرسٹر افتخار گیلانی کے نام پر اتفاق کیا تھا۔