خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا مقصد امن کی بحالی ہے، طارق فضل

 

 

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا مقصد صوبے میں امن بحال کرنا اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت، ریاستی اداروں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مطلوبہ تعاون نہ کرنے کے باعث نافذ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صدارتی حکم کے ذریعے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا، جس کی بعد ازاں پارلیمنٹ اور مشترکہ اجلاس نے منظوری دے کر آئینی تقاضے مکمل کیے۔انہوں نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھال لیے ہیں، جبکہ مختلف شعبوں میں وسیع تجربہ رکھنے والے ماہرین پر مشتمل 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے۔ڈاکٹر طارق فضل کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع میں مقامی قبائلی عمائدین کو بھی مشاورتی کونسلز میں شامل کیا گیا ہے تاکہ مشاورت اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں مقامی آبادی کی شمولیت یقینی بنائی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت وفاقی حکومت، ریاستی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون کرتی تو ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پیش نہ آتی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں تعاون اور یقین دہانی مانگی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پورے ملک کا مسئلہ ہے اور صوبائی و وفاقی حکومتوں، مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مکمل تعاون کے بغیر اس پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاک فوج، پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکار اور افسران دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی صوبائی قیادت سے کئی مرتبہ بیک ڈور رابطوں کے ذریعے تعاون کی درخواست کی، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے مبینہ عدم تعاون کا سلسلہ جاری رہا، جس کے بعد وفاقی حکومت کو فیصلہ کرنا پڑا۔انہوں نے افغانستان سے ہونے والی سرحد پار دراندازی کو بھی ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نے اس حوالے سے وفاقی حکومت کی پالیسی میں تعاون سے انکار کیا۔ڈاکٹر طارق فضل نے تمام اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، کیونکہ قومی سلامتی، امن اور ملک کے بچوں کا مستقبل سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز بھی اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی اور ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی تشکیل دیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک ایسے معاملے پر بھی اتفاق رائے پیدا نہیں کیا جاسکتا جو ملک کے امن اور بچوں کے مستقبل سے براہ راست جڑا ہوا ہے تو پھر سیاسی اختلافات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پارٹی خیبرپختونخوا میں 12 سے 13 سال تک اقتدار میں رہی، تاہم خصوصاً گزشتہ دو سے ڈھائی برس کے دوران صوبے میں مطلوبہ امن قائم نہیں ہوسکا۔انہوں نے پی ٹی آئی قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنی پوزیشن پر نظرثانی کرے، وفاقی حکومت سے بات چیت کرے اور دہشت گردی کے خلاف جاری انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں تعاون کرے۔ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ماضی میں ہونے والے مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی اور حکومت نے سنجیدگی سے مذاکرات میں حصہ لیا۔انہوں نے بتایا کہ دونوں جانب کے نمائندوں نے دو روز تک تفصیلی مذاکرات کیے اور رات تقریباً ڈھائی بجے تک مختلف مسودوں پر کام ہوتا رہا۔ ان کے مطابق حکومت نے اپوزیشن کی تجاویز کو معاہدے کے مسودے میں شامل کیا، تاہم اپوزیشن قیادت نے بالآخر اسے مسترد کردیا۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید مذاکرات میں شریک اپوزیشن کے چھ نمائندوں پر نہیں بلکہ وسیع تر اپوزیشن قیادت کے اس فیصلے پر ہے جس کے تحت مجوزہ معاہدہ مسترد کیا گیا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ابتدائی تجویز دہشت گردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی اقدامات نافذ کرنے کی تھی تاکہ امن کی بحالی کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان تعاون یقینی بنایا جاسکے۔ بعد ازاں یہ تجویز پانچ اضلاع تک محدود کردی گئی، تاہم اپوزیشن نے اس پر بھی تعاون نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا سامنا کرنے والی صوبائی حکومتیں عموماً وفاق سے اضافی سیکیورٹی اہلکار، وسائل اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کی مدد طلب کرتی ہیں، جبکہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا حکومت سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کا مطالبہ کر رہی ہے۔ڈاکٹر طارق فضل نے ایک بار پھر کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے فلور سے بھی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔خیبرپختونخوا کا بلوچستان سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی دہشت گردی ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم وہاں صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ وفاقی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ہیں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، جو دونوں صوبائی حکومتوں کے طرز عمل میں نمایاں فرق ہے۔ڈاکٹر طارق فضل نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو معدنی وسائل کے معاملات سے جوڑنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کا پہلا حق متعلقہ صوبے کے عوام کا ہے۔ بین الاقوامی کمپنیاں مشترکہ منصوبوں کے تحت معدنی وسائل کی تلاش کے دوران عالمی معیار پر عمل کریں اور مقامی آبادی کے لیے مشکلات پیدا نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جبکہ معدنیات، تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدن کو ترقی اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے سیاسی اتفاق رائے اور سازگار ماحول ضروری ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم قوت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتوں کو سیاسی محاذ آرائی کے ذریعے ملک کی ترقی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا میں مستقل امن قائم ہوگا، جس سے صوبے میں ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار ہوگی۔ڈاکٹر طارق فضل نے کہا، **”ہم سیاست قربان کرسکتے ہیں، لیکن ریاست، قومی مفاد اور ریاستی اداروں کو قربان نہیں کرسکتے۔