ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کی توقع ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ تنازع کس طرح ختم ہوگا۔3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے قبل جمعہ کو کنساس سٹی کے ریڈیو اسٹیشن KCMO کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’یہ جلد ختم ہونے جا رہی ہے‘‘امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کو اس بات کی ضمانت درکار ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ امریکا انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔دوسری جانب قطر کے ثالثی مشن نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ تیز کرتے ہوئے جمعہ کو تہران کا دورہ کیا۔الجزیرہ کے مطابق قطری ثالثوں کا دورہ واشنگٹن کے ساتھ رابطے اور تعاون سے کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایرانی سکیورٹی چیف محسن رضائی کو مذاکرات بحال کرنے کے لیے مبینہ طور پر خط بھیجے جانے کی رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق تہران کو خط موصول ہو چکا ہے، تاہم تاحال اس کا جواب نہیں دیا گیا۔دریں اثنا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور مبینہ بحری ناکہ بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں سمندری عدم تحفظ کی بنیادی وجہ واشنگٹن کے اقدامات ہیں۔ایرانی نمائندے نے مغربی ممالک کی جانب سے آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دینے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایک ذمہ دار ساحلی ریاست کی حیثیت سے کئی دہائیوں سے بحری آمدورفت کی آزادی کا احترام کرتا آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں کسی بھی رکاوٹ یا خلل کی ذمہ داری ان عناصر پر عائد ہوتی ہے جو ایران کے خلاف جارحیت میں ملوث یا اس کی معاونت کر رہے ہیں۔غلام حسین درزی نے کہا کہ ایران پر ذمہ داری عائد کرنے کی کوششیں بے بنیاد اور ناقابل اعتبار ہیں۔ایرانی سفارتکار کے مطابق 28 فروری 2026 تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا اور محفوظ تھا، تاہم اس کے بعد امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں اور شہری و بحری انفراسٹرکچر، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کو ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ایرانی نمائندے نے ناکہ بندی کے انسانی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث شہریوں کو خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے برطانیہ کی جانب سے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق خصوصی نمائندے کے منصب کو استعمال کرتے ہوئے ایران کو امریکا اور اسرائیل کی مبینہ کارروائیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایسے اقدامات کا مقصد امریکا اور اسرائیل کی مبینہ کارروائیوں کو درست ثابت کرنا اور ان کے جرائم پر پردہ ڈالنا ہے۔