طالبان سے صرف ایک توقع، افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو: اسحاق ڈار

 

دوشنبہ: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کو افغان طالبان حکومت سے صرف ایک توقع ہے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔دوشنبہ، تاجکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کے محدود فارمیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر مربوط اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، جو اپنے ہمسایہ ممالک سمیت سب کے ساتھ امن سے رہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی ترقی اور افغان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں، تاہم اس کے بدلے پاکستان کی افغان طالبان حکومت سے صرف ایک توقع ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور سیکیورٹی کے بغیر پائیدار معاشی ترقی یقینی نہیں بنائی جاسکتی۔ افغانستان میں استحکام خطے کے امن و استحکام کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پرامن اور مستحکم ہمسائیگی کے لیے پرعزم ہے، جو علاقائی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی شرط ہے۔ایس سی او کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ 25 برس کے دوران تنظیم باہمی اعتماد، احترام اور تنوع کے اصولوں پر قائم رہی ہے اور اس کے دائرہ کار میں تجارت، انفراسٹرکچر، ثقافت اور جدت سمیت مختلف شعبے شامل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او میں پاکستان کا سفر شنگھائی اسپرٹ سے وابستگی کا عکاس ہے۔ پاکستان نے 2024 میں اسلام آباد میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی میزبانی کی، جبکہ رواں سال ایس سی او انسداد دہشت گردی ڈھانچے کی سربراہی بھی کامیابی سے مکمل کی۔انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے سے متعلق ایس سی او ورکنگ گروپ کی سربراہی کے دوران پاکستان نے اپنے تجربات سے آگاہ کیا اور دیگر ممالک کے تجربات سے بھی استفادہ کیا۔ رواں سال پاکستان غربت میں کمی کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے کردار کو اجاگر کرنا چاہتا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کے لیے **”تصور کو عمل میں بدلنا: رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی”** کے عنوان سے وژن پیش کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ترجیحات میں امن، سلامتی اور باہمی اعتماد، علاقائی رابطہ کاری اور تجارت، جدت، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی، موسمیاتی لچک اور پائیدار توانائی، جبکہ عوامی روابط کا فروغ شامل ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں مؤثر معاشی انضمام کے لیے توانائی اور ٹرانسپورٹ سمیت بنیادی شعبوں میں ہدفی سرمایہ کاری انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان زراعت، کان کنی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت بلند استعداد رکھنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کا بھی بھرپور حامی ہے تاکہ تمام رکن ممالک کے لیے مضبوط اور باہم مربوط معاشی مستقبل تشکیل دیا جاسکے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری حقیقی علاقائی معاشی انضمام کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ایس سی او کے تمام شراکت دار ممالک کے لیے جامع معاشی انضمام کے مشترکہ سفر کو تیز کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، جدت، توانائی کے شعبے میں تعاون اور بین الاقوامی معلوماتی سلامتی ایس سی او میں مستقبل کے تعاون کے اہم ستون ہونے چاہئیں۔انہوں نے باہمی لین دین کے لیے قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے کی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک، ایس سی او ڈویلپمنٹ فنڈ اور سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کی تجویز پیش کی۔اسحاق ڈار کے مطابق ایسے مالیاتی ادارے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور ایس سی او خطے کو عالمی مالیاتی بحرانوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔