پاکستان سے تعلقات جغرافیائی اعتبار سے ضروری ہیں، مارکو روبِیو

 

نئی دہلی: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبِیو نے پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کے دیرینہ تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جغرافیائی اعتبار سے امریکا کے لیے جوہری صلاحیت رکھنے والے ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے۔بھارت کے تین روزہ دورے کے دوران ایک بھارتی میڈیا ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے مارکو روبِیو نے پاکستان کے حوالے سے اپنے سابقہ مؤقف اور بطور امریکی وزیر خارجہ موجودہ پالیسی سے متعلق سوال کا جواب دیا۔مارکو روبِیو نے کہا کہ ان کی ذمہ داری امریکی خارجہ پالیسی کو چلانا ہے، جس کے لیے امریکا کو ان ممالک کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جن کے ساتھ بعض معاملات پر اختلافات موجود ہوں۔انہوں نے کہا کہ امریکا دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو جوہری صلاحیت رکھنے والے پاکستان کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا، ’’جغرافیائی اعتبار سے ہمیں پاکستان کے ساتھ رابطے میں رہنے کے قابل ہونا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے بھارت کی حکومت کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات رکھنا اور ایرانی قیادت سے ملاقات کرنا ضروری ہے۔‘‘مارکو روبِیو نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات ایک مثبت پیش رفت بھی ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ اگر امریکا پاکستان کے ساتھ رابطے میں رہے اور اس سے بات چیت جاری رکھے تو واشنگٹن ایسی صورتحال پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے جس سے بھارت کو لاحق خدشات کو کم کرنے میں معاونت ملے۔ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق سوال پر روبِیو نے کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا ’’بہت مشکل‘‘ ہے۔تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور توانائی کی ترسیل مشرق وسطیٰ میں فروری میں شروع ہونے والے تنازع سے قبل کی سطح کے 80 سے 100 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔مارکو روبِیو کا رواں سال بھارت کا یہ دوسرا سرکاری دورہ ہے۔