تہران میں ایران اور معاہدہ مکہ کے رکن ممالک کا اعلیٰ سطح اجلاس، علاقائی سلامتی پر مشاورت

 

 

تہران: ایران اور معاہدہ مکہ کے تین رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اعلیٰ سطح کا چار ملکی اجلاس تہران میں جاری ہے، جس میں خطے کی کشیدہ صورتحال، ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے اثرات اور فلسطین و لبنان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی سے آنے والے اعلیٰ سطح کے حکام کا استقبال کیا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں علاقائی سلامتی، فوجی کارروائیوں کے اثرات اور فلسطین و لبنان کی حمایت سے متعلق امور زیر غور ہیں۔پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کر رہے ہیں، جبکہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اجلاس میں موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران یمن کے حوثیوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیان بازی بھی مزید سخت ہوئی ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں تہران میں ہونے والے مذاکرات کو علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔یہ ایران اور معاہدہ مکہ کے تینوں رکن ممالک کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا اعلیٰ سطح رابطہ ہے، جو خطے میں حالیہ کشیدگی اور سعودی عرب کے تنازع میں زیادہ براہِ راست متاثر ہونے کے بعد ہو رہا ہے۔اگست میں طے پانے والے **مکہ مشترکہ دفاعی معاہدےکے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ علاقائی سلامتی سے متعلق مذاکرات میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں، فلسطینی علاقوں اور لبنان کی صورتحال کے ساتھ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے اثرات پر بھی بات کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کی تجویز گزشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران سامنے آئی تھی اور یہ خطے کے ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقائی سلامتی کا نیا طریقہ کار تشکیل دینے کی جانب پہلا قدم ثابت ہوسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق قطر کے ثالثوں نے بھی اتوار کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی کشیدگی کم کرنا تھا۔ قطر گزشتہ کئی ماہ سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق چار ملکی اجلاس کا اقدام پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے گزشتہ دورہ تہران کے دوران سامنے آیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق اس دورے کے دوران ایرانی حکام نے پاکستانی وفد کو بتایا تھا کہ تہران کے مطالبات پورے ہونے تک واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔اس سے قبل پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں جون میں ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، تاہم چند ہفتوں بعد ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے یہ معاہدہ برقرار نہ رہ سکا۔ایران کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن علاقائی سلامتی سے متعلق مشاورت کے لیے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہیں۔سعودی عرب کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کرملی نے کہا کہ تہران اجلاس موجودہ بحران میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی حل کو فروغ دینے اور قطر و پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کے لیے معاہدہ مکہ کے رکن ممالک کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ علاقائی سلامتی اور استحکام کے فروغ میں معاہدہ مکہ کے ممالک کے اہم کردار اور خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر اس مقصد کے حصول کے عزم کو بھی اجاگر کرتا ہے۔دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے تصدیق کی ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سرکاری دورے پر تہران میں موجود ہیں۔