خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خاتمے کیلئے پارلیمانی پارٹی بھرپور کردار ادا کرے گی: بیرسٹر گوہر

 

 

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پارٹی کی پارلیمانی جماعت خیبر پختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کے خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کی گئی جبکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اس سیاسی خلا کو پُر کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرے گی اور خیبر پختونخوا سے ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرانے کے لیے بھی کوششیں کرے گی۔بیرسٹر گوہر کے مطابق مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس تقریباً آٹھ گھنٹے جاری رہا، جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے تقریباً 70 ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکا نے متفقہ طور پر پارٹی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس کے کردار کو سراہا، جبکہ غیر فعال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے کردار کی بھی تعریف کی گئی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی نے دونوں اپوزیشن لیڈرز پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔ اجلاس میں مرتب کی گئی سفارشات اپوزیشن رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو ارسال کردی گئی ہیں اور ان کی منظوری کے بعد انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق قیاس آرائیوں پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ معاملہ نہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھا اور نہ ہی آٹھ گھنٹے طویل اجلاس کے دوران اس پر کوئی بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق کوئی فیصلہ یا تجویز اجلاس میں پیش نہیں ہوئی اور اس معاملے پر تحریک انصاف کا مؤقف پہلے ہی واضح ہے۔بیرسٹر گوہر نے متنازع قانون سازی سے گریز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جلد بازی میں کی جانے والی قانون سازی مزید بحران پیدا کرسکتی ہے۔نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عوام کی مرضی کے بغیر صوبوں کو تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے۔ نئے صوبوں کے قیام کا کوئی بھی فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے جبکہ صوبوں سے متعلق معاملات پر قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفد کے ہمراہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال، آئینی و جمہوری معاملات اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کو عوامی حاکمیت اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا گیا۔