خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، گورنر راج کی توثیق کیلئے قراردادیں مشترکہ اجلاس میں پیش

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے دوران خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدارتی اعلانات کی توثیق کے لیے دو الگ الگ قراردادیں پیش کر دی گئیں، جن پر بحث جاری ہے۔ایک روز قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ نے آئین کے آرٹیکل 232 کی شق ایک کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی اکثریتی رائے سے منظوری دی تھی۔ اپوزیشن ارکان نے وفاقی حکومت کے فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے دونوں ایوانوں میں احتجاج کیا، تاہم قرارداد اکثریت سے منظور کر لی گئی۔وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں امن و امان اور انسداد دہشت گردی کی صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت معطل ہوگئی تھی۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی انتظامیہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال سے نمٹنے اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں وفاقی اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون کرنے میں ناکام رہی۔قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی اعلانات ایوان میں پیش کیے۔ ایمرجنسی کا اعلان آئین کے آرٹیکل 232(7) جبکہ گورنر راج کا اعلان آرٹیکل 234(3) کے تحت مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھا گیا۔کارروائی کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا جبکہ متعدد اراکین نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ طارق فضل چوہدری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے قواعد 1973 کے رول 232 کے تحت بعض ذیلی قواعد معطل کرنے کی تحریک پیش کی، جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی۔ اسپیکر نے ارکان کو کھڑا کرکے رائے شماری کرائی، جس میں تحریک 56 کے مقابلے میں 214 ووٹوں سے منظور ہوگئی۔بعد ازاں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے دو الگ الگ قراردادیں پیش کیں۔ پہلی قرارداد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے صدارتی اعلان جبکہ دوسری آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کی توثیق سے متعلق تھی۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قراردادوں پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ حکومت کے پاس موجود **آخری آپشن** تھا اور یہ فیصلہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور وفاقی کابینہ میں تفصیلی غور و خوض کے بعد کیا گیا۔انہوں نے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت صدارتی اعلانات کی منظوری دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس فیصلے کی وجوہات سے متعلق ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور اس اقدام کا مارشل لا سے موازنہ درست نہیں۔وزیر قانون کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا نے صدر مملکت اور وزیراعظم کو صوبے کی صورتحال سے متعلق تفصیلی خط لکھا تھا، جس میں دہشت گردی کے باعث صورتحال مزید سنگین ہونے سے آگاہ کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے آئینی دفعات کے استعمال کی وجوہات واضح کرنے کے لیے اعداد و شمار اور دیگر متعلقہ مواد بھی پیش کیا۔اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم نے تمام مواد کا جائزہ لینے کے بعد معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا، جہاں تقریباً ڈھائی گھنٹے تک تفصیلی بحث ہوئی۔ بعد ازاں کابینہ نے صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم کو صدر مملکت سے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی سفارش کرنے کی منظوری دی۔