عمران خان سے ملاقات تک حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے، ٹی ٹی اے پی

 

تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے اعلان کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اہل خانہ سے ملاقات، ان کے ڈاکٹروں کو رسائی اور صحت سے متعلق معلومات فراہم کیے جانے تک حکومت کے ساتھ تمام مذاکرات معطل رہیں گے۔ٹی ٹی اے پی کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی، جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس کے بعد جاری بیان میں اتحاد نے کہا کہ جب تک عمران خان سے ملاقات کا انتظام اور ان کی صحت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی جاتیں، حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ بیان کے مطابق حکومت سے مذاکرات کا اختیار صرف محمود خان اچکزئی کے پاس ہوگا۔اتحاد نے عمران خان کی بہنوں کی رہائی اور ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ ٹی ٹی اے پی نے غیر فعال وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر سمیت گرفتار قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان اور پارٹی رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ٹی ٹی اے پی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آئین اور عوامی مینڈیٹ پر حملہ قرار دیا اور دونوں فیصلے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اتحاد نے اعلان کیا کہ اس میں شامل جماعتیں ان اقدامات کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گی۔قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بدھ کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے صدارتی اعلان کی اکثریتی رائے سے منظوری دی تھی۔ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج کے ساتھ ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بہتر رابطہ کاری کی ضرورت کے پیش نظر کیا گیا۔ٹی ٹی اے پی نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی چٹھہ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی سے وابستہ تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔اتحاد نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کی، تاہم مطالبہ کیا کہ نئی پالیسیاں متعارف کرانے کے بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں امن جرگے کی منظور کردہ مشترکہ قرارداد پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔بلوچستان کی صورتحال پر ٹی ٹی اے پی نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں بگڑتی سکیورٹی صورتحال کی وجہ غیر نمائندہ صوبائی حکومت اور وفاق کی ناکام پالیسیاں ہیں۔ اتحاد نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے مسائل طاقت کے استعمال کے بجائے عوام کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔بیان میں آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور الزام عائد کیا گیا کہ وہاں عوام پر ایک ’’مصنوعی نظام‘‘ مسلط کیا گیا ہے جبکہ کئی ماہ سے انٹرنیٹ اور بنیادی سہولیات تک رسائی متاثر ہے۔ٹی ٹی اے پی نے عدلیہ کی آزادی اور میڈیا پر مبینہ پابندیوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پاکستان میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آئینی معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ سے رجوع کیا ہے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک روز قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی ضرورت باقی نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال پیدا ہونے پر وہ خود وزیراعظم سے ایمرجنسی ختم کرنے کی درخواست کریں گے۔بلاول بھٹو نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سیاسی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایمرجنسی کا نفاذ صوبے کے سکیورٹی مسائل کا دیرپا حل نہیں ہوسکتا۔