اسلام آباد: سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع واشک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ کارروائی میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار بھی برآمد کر لی گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 12 اور 13 اکتوبر 2026 کی درمیانی شب دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع واشک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آئی ایس پی آر نے ہلاک دہشت گردوں کو بھارتی پراکسی ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے وابستہ قرار دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے تیز اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کر دیا۔ کارروائی کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے بھارت کی سرپرستی یافتہ دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان سے منظور شدہ وژن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رکھیں گے۔پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں 225 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جو اگست میں ہونے والے 199 حملوں کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ تھے۔پاکستان بارہا افغان حکام پر زور دیتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں ملوث گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان متعدد ادوار میں مذاکرات کے باوجود اختلافات برقرار ہیں، جبکہ افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان اہم تنازع بنا ہوا ہے۔