پاک ایران سرحد جلد دوبارہ کھلنے کا امکان، بلوچستان حکومت

 

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے پاک ایران سرحد کی عارضی بندش سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد کی بندش کا مقصد سیکیورٹی خدشات دور کرنا، اسمگلنگ کی روک تھام اور بارڈر مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانا ہے، جبکہ سرحد جلد دوبارہ کھلنے کا امکان ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر شاہد رند نے اپنے بیان میں کہا کہ پاک ایران سرحد کی عارضی بندش سیکیورٹی معاملات، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی انتظام کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری تھی۔شاہد رند کے مطابق پاکستان اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت کے ذریعے سرحد سے متعلق انتظامی معاملات کے حل میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ پیش رفت کے پیش نظر پاک ایران سرحد جلد دوبارہ کھلنے کا امکان ہے۔ سرحدی امور کو بہتر بنانے، اسمگلنگ کی روک تھام اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔مشیر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مؤثر بارڈر مینجمنٹ سے سرحدی علاقوں میں بدامنی پر قابو پانے میں مدد ملے گی جبکہ تاجروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پاک ایران سرحد کی بندش سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔اس سے قبل کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے کہا تھا کہ سرحد کی بندش سے دوطرفہ تجارت متاثر ہوئی اور سامان سے لدے ٹرک دونوں جانب پھنس گئے ہیں۔ چیمبر کے مطابق ایران سے پاکستان اور پاکستان سے ایران جانے والے تقریباً 2 ہزار ٹرک سرحد کی بندش کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔چیمبر حکام نے خبردار کیا تھا کہ اچانک سرحد بند کیے جانے سے تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے تاجروں کو صورتحال واضح ہونے تک نئی خریداری روکنے کا مشورہ بھی دیا گیا تھا۔حکام کے مطابق وزارت تجارت نے بھی تاجروں کو ایران سے درآمد کیے جانے والے سامان کی نئی بکنگ عارضی طور پر روکنے کی ہدایت کی تھی۔