اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے اپوزیشن پر زور دیا ہے کہ وہ دیگر مطالبات ایک طرف رکھ کر حکومت کے ساتھ بیٹھے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت کرے۔سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف دہشت گردی کے معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کی دعوت دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے مسئلے کا سامنا ہے اور ماضی میں آپریشن ضربِ عضب بھی سیاسی اتفاق رائے سے شروع کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے معاملے پر اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے۔رانا ثناء اللہ نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس سے اپنی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انہیں وزیراعظم سے ملاقات یا اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر آنے کی تجویز دی تھی، تاہم راجہ ناصر عباس نے وزیراعظم سے ملاقات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسپیکر کو تسلیم نہیں کرتے۔رانا ثناء اللہ نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کے رویوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت مسلح افواج اور وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ صوبے میں کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔دریں اثنا وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کمیٹی کام کر رہی ہے۔انہوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی ذمہ داری پاکستان تحریک انصاف کے مؤقف پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پارٹی کی ’’ہٹ دھرمی‘‘ کے باعث کرنا پڑا۔ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والی دراندازی کو بھی مؤثر انداز میں روکا جائے گا اور دہشت گردوں اور پاکستان مخالف عناصر کے درمیان کسی بھی قسم کا گٹھ جوڑ قابل قبول انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے دوران وفاقی حکومت کی کوشش تھی کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی سطح پر مؤثر تعاون کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ عملی طور پر ممکن نہیں۔وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے افغانستان سے متعلق وفاقی حکومت کی پالیسی میں تعاون سے انکار کیا۔دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ایسے لوگ سامنے آ رہے ہیں جو محاذ آرائی کے بجائے سیاست کے راستے پر چلنے کے حامی ہیں۔پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی سیاست کرے گی تو اس کے لیے بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قائم کردہ جماعت کو سوشل میڈیا کے اثر سے باہر نکل کر سیاسی سرگرمیوں پر توجہ دینے سے فائدہ ہوگا۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کے بیانات کے بارے میں سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ وہ ان بیانات پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے سخت بیانات پر سیاسی نقطہ نظر سے تنقید کی تھی۔