کشمیریوں نے بھارتی قبضہ کبھی تسلیم نہیں کیا، حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

 

 

اسلام آباد: یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار کے مقررین نے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔کشمیر لبریشن سیل اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے زیرِ اہتمام سیمینار 27 اکتوبر 1947 کی مناسبت سے منعقد کیا گیا، جب بھارتی فوجیں جموں و کشمیر میں داخل ہوئی تھیں۔ مقررین نے اس دن کو کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوجی مداخلت کشمیری عوام کی خواہشات کے منافی تھی۔مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ محض تشویش کے اظہار تک محدود رہنے کے بجائے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔سیمینار میں پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین محمد قاسم نون، آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان، اسپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، سابق کنوینر آل پارٹیز حریت کانفرنس محمد فاروق رحمانی، صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس افضل بٹ، رکن قومی اسمبلی مہ جبین عباسی، حریت رہنما شمیم شال اور الطاف حسین وانی سمیت سیاسی، صحافتی اور سول سوسائٹی کی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد قاسم نون نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور متنازع خطے میں بھارتی اقدامات کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے 19 جولائی 1947 کی پاکستان سے الحاق کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت بہت سے کشمیریوں کی سیاسی امنگوں کی عکاس تھی۔انہوں نے بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔سابق صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب خان نے کہا کہ کشمیری عوام مرحوم حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کے نعرے ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘ سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے معرکۂ حق کے دوران پیش رفت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں پاکستانی میڈیا کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ کشمیری عوام اپنی آزادی کی جدوجہد میں ثابت قدم ہیں۔سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے کشمیری عوام کی امنگوں کو دبایا نہیں جا سکا۔ انہوں نے کشمیر کے پاکستان کے ساتھ تاریخی، جغرافیائی اور قدرتی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر قومی اہمیت کا معاملہ ہے جس پر تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ ہونا چاہیے۔اسپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ یومِ سیاہ کشمیر عالمی برادری کو یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام نے بھارتی قبضے کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے ماضی کے واقعات اور موجودہ حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں مؤثر اور سوچا سمجھا لائحہ عمل اختیار کرنا ضروری ہے۔سابق کنوینر آل پارٹیز حریت کانفرنس محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوجیوں کی آمد کشمیری عوام کی خواہشات کے خلاف تھی اور کشمیری آج بھی اس تنازع کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل تلاش کیا جائے اور کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان اور حریت رہنما شمیم شال نے کشمیریوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ برسوں کی مشکلات اور دباؤ کے باوجود کشمیری عوام نے حقِ خودارادیت کے مطالبے سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے تنازع کشمیر کے پُرامن اور منصفانہ حل کے لیے کردار ادا کرے۔پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کی تاریخ کو آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے حالات و واقعات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے مجاہدِ اول سردار محمد عبدالقیوم خان، غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان اور کے ایچ خورشید کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام علاقوں کے عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔جموں و کشمیر اوورسیز کمیٹی کے نمائندے غلام نبی بٹ نے کہا کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں مشکلات کے باوجود کشمیری عوام اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہیں۔ حریت رہنما الطاف حسین وانی نے کشمیریوں کے درمیان مزید اتحاد اور حقِ خودارادیت کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ مسلم کانفرنس کے رہنما عابد عباسی نے آزادی اور بنیادی حقوق کے لیے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔سیمینار کے اختتام پر مقررین نے مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر برقرار رکھنے اور کشمیری عوام کی آواز اور امنگوں کو دنیا تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے مربوط سیاسی، سفارتی اور اخلاقی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔