. فیلڈ مارشل عاصم منیر مسلم امہ کے لیے امید کی کرن ہیں، سعودی اسکالر

 

 

 

اسلام آباد: بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) کے قائم مقام ریکٹر و صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مسلم امہ کے لیے **’’امید کی کرن‘‘** قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج مسلم دنیا کے لیے طاقت اور اعتماد کا اہم ذریعہ ہیں۔فیصل مسجد میں نماز جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے پاکستان کی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی قیادت میں افواج پاکستان کی مزید مضبوطی، کامیابی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے دعا کی۔انہوں نے فیصل مسجد کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مملکت سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک عظیم تحفہ اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور مضبوط تعلقات کی مستقل علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، فیصل مسجد کی نگران کی حیثیت سے پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کے وژن کو آگے بڑھانے اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے مقاصد کے فروغ کے لیے اہم ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سعودی اسکالر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج پوری مسلم امہ کے لیے طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ مسلم دنیا اس وقت سنگین چیلنجز اور غیر معمولی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث اتحاد، یکجہتی اور اجتماعی قوت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان کے ساتھ اتحاد مسلم اقوام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ مسلم امہ کو باہمی اختلافات اور تقسیم سے بالاتر ہو کر مشترکہ چیلنجز کا متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے اختلافات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ داخلی تقسیم نے مسلم ممالک کی اجتماعی قوت کو کمزور کیا اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صفوں میں اتحاد، باہمی اعتماد اور مسلم امہ کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے نئے عزم کی ضرورت ہے۔قائم مقام ریکٹر نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں، محلوں اور کام کی جگہوں سمیت زندگی کے ہر شعبے میں اتحاد اور بھائی چارے کے اصولوں کو عملی طور پر اپنائیں۔قرآن کریم کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام مسلم امہ کو ایک ایسی واحد جماعت قرار دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ایمان کے رشتے میں متحد ہے۔ دیگر اقوام اپنی شناخت جغرافیہ، نسل، رنگ یا قبائلی وابستگی سے قائم کرتی ہیں، جبکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو کلمہ طیبہ کے مقدس رشتے میں جوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ روحانی تعلق مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ، نبی کریم حضرت محمد ﷺ اور ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط رشتے میں منسلک کرتا ہے۔باہمی ہمدردی اور اخوت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کا حوالہ دیا کہ مومن کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں، باہمی تنازعات سے گریز کریں اور ذاتی و گروہی اختلافات پر اجتماعی مفادات کو ترجیح دیں۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول نقل کرتے ہوئے انہوں نے مسلم اتحاد کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ جماعت اور اتحاد کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے کیونکہ تقسیم کے مقابلے میں اتحاد میں موجود مشکلات بھی بہتر ہیں۔ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے کہا کہ اسلامی تعلیمات اور عبادات اجتماعی زندگی، باہمی تعاون اور یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں اور واضح کرتی ہیں کہ اتحاد اسلامی طرزِ زندگی کا بنیادی اصول ہے۔دریں اثنا، پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلیمی اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے قائم مقام ریکٹر کی حیثیت سے انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی روابط کو وسعت دینے اور یونیورسٹی کے لیے سعودی عرب سے مالی معاونت کے حصول کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ان کوششوں کے نتیجے میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو سعودی عرب سے خصوصی مالی معاونت بھی حاصل ہوئی ہے، جس میں حال ہی میں یونیورسٹی کی تعلیمی اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے حاصل ہونے والی 14 کروڑ 40 لاکھ روپے کی گرانٹ بھی شامل ہے۔خطبہ جمعہ کے اختتام پر مسلم امہ سے ایمان، اتحاد، بھائی چارے اور اجتماعی ذمہ داری کو فروغ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلمان داخلی اختلافات پر قابو پائیں اور امن، استحکام اور مسلم امہ کے مضبوط مستقبل کے لیے مل کر کام کریں۔