تہران: چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر منگل کو اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد کے ہمراہ ایران پہنچ گئے، جہاں وہ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ایرانی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران دونوں ممالک سے مسلسل رابطے برقرار رکھتے ہوئے ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جون میں امریکا اور ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا فریم ورک قائم کرنا تھا، تاہم سیکیورٹی ضمانتوں اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت سمیت بعض معاملات پر اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اب بھی جاری ہیں اور دونوں فریق رابطے میں ہیں۔دوحہ میں گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ یہ عمل کسی معاہدے تک پہنچے گا، تاہم زمینی صورتحال تیزی سے پیچیدہ ہوتی جارہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی پر قابو نہ پایا گیا تو خطہ ایک ایسی جنگ کی جانب بڑھ سکتا ہے جو موجودہ حدود سے باہر تک پھیل جائے۔الانصاری نے کہا کہ ماضی میں جنگ بندی کو مذاکرات کی جانب راستہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم وہ کوشش ناکام ہوگئی اور دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی۔انہوں نے یمن کی صورتحال کو بھی خطے میں ایران سے متعلق کشیدگی سے جوڑا، تاہم کہا کہ یمن کے تنازع کی اپنی الگ حرکیات بھی ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں مختلف تنازعات کو بیک وقت کم کرنا ہی مزید کشیدگی روکنے کا واحد راستہ ہے۔قطری ترجمان نے اسرائیل سے سامنے آنے والے بعض سیاسی بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی عدم استحکام کو داخلی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔غزہ اور فلسطین کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ قابل عمل امن عمل نہ ہونے کے باعث سیاسی حل کے امکانات متاثر ہورہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ مزید جنگ اور تنازع مزید تنازع کو جنم دیتا ہے۔الانصاری نے کہا کہ کامیاب ثالثی کے لیے فریقین کا ایک دوسرے پر اعتماد ضروری نہیں بلکہ مذاکراتی عمل پر اعتماد ضروری ہے۔دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی فوجی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ان دعوؤں کو مسترد کردیا کہ واشنگٹن نے تہران کو ممکنہ حملے کی صورت میں جوابی کارروائی نہ کرنے کا پیغام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی حملے کا جواب نہ ملنے کا تصور محض ایک خیال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے واضح کردیا ہے کہ کسی بھی فوجی حملے کا جواب دیا جائے گا۔بقائی نے کہا کہ اگر ایران کا ردعمل زیادہ طاقتور نہ ہوا تو کم از کم حملے کے برابر ضرور ہوگا۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے حملہ کرکے بغیر کسی نتیجے کے واپس چلے جانے کا دور ختم ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات شروع نہیں کیے، اس لیے ایسے کسی مذاکرات کی تفصیلات روس یا دیگر ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایرانی ترجمان نے جوہری معاملے پر تہران کے مؤقف میں نرمی کی قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے اصولوں اور قومی مفادات پر قائم ہے۔اسماعیل بقائی نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ایران کے دورے کو دونوں ممالک کے درمیان معمول کے مشاورتی عمل کا حصہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ لاوروف کا دورہ کئی ماہ قبل طے کیا گیا تھا، جس کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی صورتحال، قفقاز، یورپ، یوکرین تنازع، خلیج، آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت ہوئی۔بقائی نے کہا کہ روس نے 2015 کے جوہری معاہدے تک پہنچنے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ کشیدگی کم کرنے میں تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا پر طویل عرصے سے عدم اعتماد کے باوجود ایران سفارتی مواقع تلاش کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق اگر سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی میں اضافے کو روکنے کا معمولی سا امکان بھی موجود ہو تو اس راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی ترجیح قومی مفادات اور سلامتی کا تحفظ ہے، خواہ اس کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا پڑے یا فوجی دفاع کا۔اسماعیل بقائی نے بغداد میں ہونے والے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے خلاف سعودی عرب سے اظہار یکجہتی کی قرارداد کو بھی مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ ایران نے باضابطہ طور پر قرارداد کی مخالفت کی اور اسے او آئی سی کا قابل اعتبار فیصلہ نہیں سمجھتا، کیونکہ تنظیم کے طریقہ کار کے قواعد پر مکمل عمل نہیں کیا گیا۔ایرانی ترجمان کے مطابق تہران نے یمن سے متعلق دو پیراگراف کو حتمی اعلامیے میں شامل ہونے سے بھی روکا، کیونکہ ان کے خیال میں ان کی زبان مسلم ممالک کے درمیان مزید تقسیم کا باعث بن سکتی تھی۔بقائی نے کہا کہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان مسئلہ فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔انہوں نے ہمسایہ ممالک پر زور دیا کہ وہ غیر ملکی طاقتوں کو اپنی سرزمین اور فوجی تنصیبات دوسرے ممالک کے خلاف دھمکی یا حملے کے لیے استعمال نہ کرنے دیں۔