سعودی عرب کے شہر دمام کے صنعتی کمپلیکس پر حملہ، بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، ایرانی میڈیا

 

دمام: سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام میں ایک صنعتی کمپلیکس پر حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا (IRNA) کے مطابق اتوار کو ہونے والے اس حملے میں یمن سے کارروائی کی گئی۔ارنا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یمن کی جانب سے سعودی عرب کے مشرقی علاقے دمام میں واقع صنعتی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں شدید آگ لگ گئی۔یہ واقعہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔ موسم گرما میں جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔حوثی گروپ نے جمعرات کو دعویٰ کیا تھا کہ مغربی یمن کے رہائشی علاقوں پر سعودی حملوں میں 12 افراد ہلاک اور تین شدید زخمی ہوئے۔ گروپ کی وزارت صحت کے مطابق یہ ہلاکتیں مقبنہ ضلع کے علاقے البرح میں دو خاندانوں کے گھروں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں ہوئیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔حوثیوں نے بدھ کو بھی دعویٰ کیا تھا کہ سعودی حملوں میں ایک پٹرول پمپ اور مارکیٹ کو نشانہ بنائے جانے سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب حوثی گروپ نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مضبوط گڑھ عدن کے ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوئے۔حالیہ کشیدگی میں اضافے کا پس منظر جولائی میں 2022 کی جنگ بندی کے خاتمے سے جڑا ہے، جب حوثیوں نے سعودی عرب کے زیر کنٹرول یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی طیارے کو صنعا میں اترنے کی اجازت دی تھی۔ اس اقدام کے بعد حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا اور حوثی باغیوں نے سعودی سرزمین، بحری جہازوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب پر حملوں میں مزید شدت پیدا کی ہے۔ ان حملوں میں ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا، جس کے باعث ہوائی اڈہ دو ہفتوں تک بند رہا اور متعدد بڑے پروگرام منسوخ کرنا پڑے۔ ان واقعات سے سعودی عرب کے معاشی تنوع کے منصوبوں کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔