لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے جج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، انہوں نے اپنے فیصلے کی وجوہات میں ضمیر کی آواز، حالیہ سرجری کے بعد صحت سے متعلق مسائل اور عدالتی اداروں پر انتظامیہ کے مبینہ بڑھتے ہوئے کنٹرول کو بیان کیا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی ان تین ججز میں شامل تھے جنہیں رواں سال اپریل میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے دیگر ہائیکورٹس منتقل کیا گیا تھا۔ یہ تجویز اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت 28 اپریل کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں اکثریتی رائے سے جسٹس محسن اختر کیانی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ، جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائیکورٹ جبکہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو سندھ ہائیکورٹ منتقل کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔جیو نیوز کے پاس موجود استعفے کی نقل کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وہ ذاتی وجوہات، حالیہ سرجری کے بعد صحت سے متعلق خدشات اور ضمیر کی بنیاد پر عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔انہوں نے اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹس میں اپنی عدالتی خدمات کو اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ میں گزارے گئے سال ان کی زندگی کے بامقصد اور اطمینان بخش ادوار میں شامل رہے۔جسٹس محسن اختر کیانی کے مطابق انہوں نے اپنے دورِ ملازمت میں مختلف نوعیت کے 23 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے اور ہمیشہ آئین کی بالادستی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور بلاخوف و رعایت انصاف کی فراہمی کی کوشش کی۔اپنے استعفے میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی تبدیلیوں نے ان کی رائے میں ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی سالمیت کو متاثر کیا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ انہوں نے عدالتی اداروں پر انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کا مشاہدہ کیا، جو ان کے بقول ججز کی تقرری اور تبادلوں تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ اس قسم کی مداخلت سے عدلیہ کی آزادی اور عدالتی عمل کی غیرجانبداری پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے عام سائلین کو درپیش مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے حصول کے لیے آنے والے افراد کی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور ان کی ضروریات کو اکثر نظرانداز کیا گیا، جبکہ عدالتی نظام سے دیگر عناصر فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ موجودہ حالات میں ان کا ضمیر انہیں عدالتی منصب پر مزید کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے استعفے کے فیصلے کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی منصب کو آزادی، آئین سے وفاداری اور انسانی وقار کے تحفظ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے عدالتی عہدہ چھوڑنے کے بعد دوبارہ وکالت کے شعبے میں آنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ وہ عوام کی خدمت، ان کے حقوق کے تحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔