اسلام آباد: (SSDO) نے پارلیمانی کاکس آن چائلڈ رائٹس (PCCR) اور اسلامی تحقیقی ادارے (IRI) کے اشتراک سے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک جامع آگاہی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت اسلام آباد، راولپنڈی اور ملتان کے تقریباً 300 سرکاری و نجی اسکولوں میں 50 ہزار سے زائد طلبہ اور والدین تک رسائی حاصل کی جائے گی۔مہم کا آغاز **’’بچوں کا تحفظ سب کی ذمہ داری ہے: بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی روک تھام اور اس سے نمٹنے کے اقدامات‘‘** کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔ سیمینار میں اراکین پارلیمنٹ، پالیسی سازوں، بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہرین، ماہرین تعلیم اور سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔تقریب میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، ایس ایس ڈی او کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید کوثر عباس، رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی کاکس آن چائلڈ رائٹس کی کنوینر ڈاکٹر نکہت شکیل، اراکین قومی اسمبلی زیب جعفر اور آسیہ ناز تنولی، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (NCRC) کی چیئرپرسن سینیٹر عائشہ رضا فاروق، اسلامی تحقیقی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اکرم اور ایس ایس ڈی او کی ڈائریکٹر پروگرامز مریم جواد سمیت دیگر شخصیات شریک ہوئیں۔شرکا نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے محض قوانین اور پالیسیوں کی تشکیل کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد، ادارہ جاتی جواب دہی اور حکومتی اداروں، تعلیمی اداروں، خاندانوں اور مقامی برادریوں کے درمیان مضبوط رابطہ ناگزیر ہے۔مقررین نے بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کے واقعات کی بروقت نشاندہی، آسان اور مؤثر شکایتی نظام اور شکایات پر فوری اور بچوں کے لیے حساس انداز میں کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔تعلیمی اداروں کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اسکول بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی روک تھام اور خطرات سے دوچار بچوں کی بروقت نشاندہی کے لیے بنیادی پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اساتذہ، اسکول انتظامیہ اور والدین کو ممکنہ خطرات اور انتباہی علامات کی شناخت، شکایت درج کرانے کے طریقہ کار اور ضروری معاونت تک رسائی کے حوالے سے مناسب تربیت اور آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے۔مہم کے اگلے مرحلے میں ایس ایس ڈی او اسلام آباد، راولپنڈی اور ملتان کے تقریباً **300 سرکاری و نجی اسکولوں** میں آگاہی سرگرمیاں منعقد کرے گا، جن کے ذریعے **50 ہزار سے زائد طلبہ اور والدین** تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔مہم کے تحت اسکولوں میں آگاہی سیشنز اور کمیونٹی سطح پر مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان سرگرمیوں کا مقصد بچوں کو ذاتی تحفظ کے بارے میں آگاہ کرنا، انہیں کسی بھی تشویش یا مسئلے کی بلاخوف اطلاع دینے کی حوصلہ افزائی کرنا اور والدین کو ممکنہ خطرات کی شناخت اور ان سے مناسب انداز میں نمٹنے کے طریقوں سے آگاہ کرنا ہے۔مہم کے ذریعے اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے، ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دینے اور ایسا محفوظ ماحول قائم کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی جہاں بچے کسی خوف، دباؤ، بدنامی یا امتیازی سلوک کے بغیر اپنے مسائل اور خدشات بیان کر سکیں۔ خصوصاً کمزور اور خطرات سے دوچار بچوں کو مناسب تحفظ اور معاونت کی فراہمی پر زور دیا جائے گا۔مقررین کا کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی، استحصال اور غفلت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات ایک جامع اور مسلسل حکمت عملی کے متقاضی ہیں۔ بچوں کا تحفظ کسی ایک ادارے یا محکمے کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے پارلیمنٹ، حکومتی اداروں، اساتذہ، والدین، سول سوسائٹی اور مقامی برادریوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔سیمینار کے اختتام پر بچوں کے تحفظ سے متعلق وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے، چائلڈ پروٹیکشن نظام کو مزید مضبوط بنانے اور ہر سطح پر جواب دہی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔منتظمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہر بچے کو محفوظ، معاون اور باوقار ماحول میں پرورش پانے کا بنیادی حق حاصل ہے، جہاں وہ تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رہتے ہوئے تعلیم حاصل کر سکے، اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکے اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل کر سکے۔شرکا نے بچوں کے تحفظ کو قومی ترجیح بنانے اور آنے والی نسلوں کے لیے زیادہ محفوظ مستقبل کی تشکیل کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور طبقات کے درمیان مستقل تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔