انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اپوزیشن کی شمولیت کا امکان، پیپلز پارٹی کا رابطہ کامیاب

 

 

 

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے رابطے کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے مجوزہ پارلیمانی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت پر آمادگی کا عندیہ دے دیا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی جواب آئندہ چند روز میں مشاورت کے بعد دیا جائے گا۔پیپلز پارٹی کے وفد نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی اور انہیں انتخابی اصلاحات کمیٹی کا حصہ بننے کی دعوت دی۔پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کے مطابق پیپلز پارٹی نے تجویز دی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مشترکہ طور پر ایسی سفارشات تیار کریں جن کا مقصد ملک میں شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانا ہو۔ذرائع کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور اتحاد کے وائس چیئرمین و سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے رسمی جواب دینے سے قبل پی ٹی آئی قیادت سے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے۔تاہم راجہ ناصر عباس نے انتخابی عمل کو مزید شفاف بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا، جبکہ سینیٹر شیری رحمان نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن کی جانب سے دعوت کا مثبت جواب ملے گا۔شیری رحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی اور انہیں انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے مشاورت کے بعد جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی مساوی نمائندگی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات غیرجانبدار ہونی چاہئیں اور عوام کی خواہشات کے مطابق ہونی چاہئیں۔ذرائع کے مطابق مجوزہ کمیٹی 2024 کے عام انتخابات، اس کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور انتخابی بے ضابطگیوں کا جائزہ لے گی۔کمیٹی انتخابی بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات بھی مرتب کرے گی۔ کمیٹی کی سفارشات بعد ازاں منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی۔وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ قومی اسمبلی انتخابی اصلاحات کمیٹی کے قیام کی منظوری دے چکی ہے اور اسپیکر جلد اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دینے کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ مجوزہ کمیٹی **30 پارلیمنٹیرینز** پر مشتمل ہوگی، جن میں قومی اسمبلی کے 20 اور سینیٹ کے 10 ارکان شامل ہوں گے۔ دونوں ایوانوں میں سیاسی جماعتوں کی عددی قوت کے مطابق انہیں کمیٹی میں نمائندگی دی جائے گی۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے پیش کی جانے والی **مثبت، تعمیری اور قابلِ عمل تجاویز** کو اہمیت دینے کی کوشش کی جائے گی۔