راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ پاکستان کی جوابی کارروائی کا نقصان برداشت کر سکیں۔ پاکستان افغانستان سے پیدا ہونے والے تمام خطرات، بشمول ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان جو بھی بھیجنے کی کوشش کریں، پاکستان اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان شاید یہ کوشش کریں، تاہم ان میں پاکستان کی جانب سے دی جانے والی جوابی کارروائی کے نتائج برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔افغان طالبان کے ممکنہ ڈرون خطرات اور خطے میں ڈرون حملوں جیسی صورتحال پیدا ہونے کے خدشات سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغان طالبان کے پاس موجود ڈرون ٹیکنالوجی مقامی طور پر تیار کردہ نہیں بلکہ انہیں یہ ٹیکنالوجی ان کے سرپرست فراہم کر رہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کو درپیش خطرات کے تناظر میں بھارت کو دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان اور پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد تنظیمیں بھارتی پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی دہلی نے پاکستان کی جانب درجنوں جدید ڈرون بھیجے تھے، جنہیں پاکستانی دفاعی نظام نے کامیابی سے ناکارہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ان تمام ڈرونز کو مختلف مقامات پر تباہ کیا اور اب اس کی آپریشنل تیاری پہلے سے بھی زیادہ بہتر ہو چکی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد رہنماؤں کو پناہ دے رہی ہے اور مسلح گروہوں کو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا خواہاں نہیں بلکہ کابل کے ساتھ رابطے برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم افغان طالبان سے توقع ہے کہ وہ ایک ریاست کی طرح ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت بند کی جائے اور دہشت گرد رہنماؤں کو پناہ نہ دی جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد گروہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں اور انہیں وہاں سے اسلحہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان پر حملوں میں ملوث گروہوں میں افغان شہریوں اور حتیٰ کہ طالبان حکومت کے اہلکاروں کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دہشت گردی کی سرپرستی جاری رہی تو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ پاکستان یہ قیمت عائد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے لیے اس کے پاس واضح حکمت عملی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایسا ماحول فراہم کیا جا رہا ہے جہاں متعدد عسکریت پسند تنظیمیں سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان پر طالبان مخالف عناصر کی میزبانی یا ان کے ساتھ رابطہ کاری کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔افغانستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے بجائے اس کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عالمی برادری اور علاقائی ممالک کو افغان طالبان کے ساتھ رابطے رکھنے چاہئیں اور انہیں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کام کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان سے صرف دو چیزیں سامنے آ رہی ہیں، دہشت گردی اور منشیات، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے طرزِ حکمرانی میں مداخلت یا یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں کہ وہاں کس طرح حکومت چلائی جائے، یہ فیصلہ افغان عوام کا اپنا معاملہ ہے۔ تاہم کسی بھی ریاست کے لیے مسلح گروہوں، ملیشیاؤں اور کرائے کے جنگجوؤں کی سرگرمیوں کو برداشت کرنا ممکن نہیں ہونا چاہیے۔جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ ڈرونز، سائبر ٹیکنالوجی اور دیگر جدید غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی عناصر کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور غیر روایتی جنگی صلاحیتوں کا پھیلاؤ ایک نیا خطرہ ہے، جس کے پیش نظر تمام ممالک کو اپنے سکیورٹی نظام پر نظرثانی کرنا ہوگی۔افغانستان میں اہداف کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے متعلق سوال پر انہوں نے آپریشنل تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ تفصیل نہیں بتا سکتے کہ فوج مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، سائبر ٹیکنالوجی یا دیگر جدید ذرائع کو کس طرح استعمال کر رہی ہے، تاہم پاک فوج مختلف جدید ٹیکنالوجیز استعمال کر رہی ہے اور ایک جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ فوج ہے۔