روبیو کا روسی تیل پر انحصار کم کرنے کے بھارتی اقدام کا خیرمقدم، امریکا-بھارت تجارتی معاہدہ قریب

 

 

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور روسی تیل پر انحصار کم کرنے کی جانب بھارت کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔ممبئی کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ بھارت نے اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق توانائی کی موجودہ سپلائی کے نظام کو تبدیل کرنا آسان نہیں، تاہم بھارت اس حوالے سے اہم اقدامات کر رہا ہے۔روبیو نے کہا کہ بھارت مسلسل اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی خواہش کا اظہار کرتا رہا ہے، جو ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا بھارت کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے بھارت کی صنعتی صلاحیت کو بھی سراہا اور اسے ایک بڑی ریفائننگ طاقت قرار دیا۔ روبیو گجرات کے شہر جام نگر کا دورہ بھی کریں گے، جہاں ریلائنس انڈسٹریز کا بڑا آئل ریفائننگ کمپلیکس واقع ہے۔مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ تقریباً حتمی مرحلے میں ہے اور چند معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد معاہدے کا اعلان کیا جاسکتا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے رہنما اس پر باضابطہ دستخط کریں گے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات میں مارکیٹ تک رسائی، محصولات اور اقتصادی رعایتوں سمیت مختلف معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے رواں ماہ مذاکرات کو ایک مقام پر پہنچنے کا اشارہ دیا تھا۔روسی تیل سے متعلق امریکی عارضی پابندیوں کی چھوٹ کے حوالے سے روبیو نے کہا کہ واشنگٹن کو اپنی پالیسی ترجیحات اور دیگر ممالک کی عملی توانائی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کسی ایک مسئلے کی بنیاد پر دوسرے ممالک کی معیشتوں کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا، کیونکہ متبادل توانائی کے ذرائع حاصل کرنا فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا۔روبیو کا بھارت کا دورہ وسیع تر ایشیائی سفارتی دورے کا حصہ ہے۔ بھارت پہنچنے سے قبل انہوں نے ازبکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے پر زور دیا۔بھارت میں روبیو نے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ اس دوران انہوں نے نومبر 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے متاثرین کی یادگار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔دریں اثنا بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے ممبئی میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ جے شنکر نے خلیجی خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجارت، توانائی اور کھاد کی آزادانہ، محفوظ اور بلا رکاوٹ ترسیل کی اہمیت پر زور دیا۔دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ انہوں نے مارکو روبیو سے یوکرین کی امریکی فوجی سیٹلائٹ نظام تک رسائی اور میزائل شکن نظام کی فراہمی میں تاخیر کے حوالے سے بات کی ہے۔روبیو کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے، توانائی کے شراکت داریاں تبدیل کرنے اور مختلف خطوں میں سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔