پاک ترک معارف انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز کے زیرِ اہتمام جمہوریہ ترکیہ کے قیام کی 103ویں سالگرہ کے موقع پر انٹرنیشنل معارف اسکولز،ایچ-8، اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں ترکیہ کی قومی تاریخ، ثقافتی ورثے اور پاکستان کے ساتھ دیرینہ دوستی کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر سفارتی نمائندگان، حکومتی عہدیداران، ادارے کی قیادت، طلبہ، اساتذہ، عملے کے ارکان اور والدین نے شرکت کی اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب میں مہمانِ خصوصی محترمہ وجیہہ قمر، وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت؛ عزت مآب ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو، پاکستان میں جمہوریہ ترکیہ کے سفیر؛ عزت مآب محترمہ بوکت کوپ، پاکستان میں ترک جمہوریہ شمالی قبرص کی سفیر؛ سینیٹر ثناء جمالی؛ ترکمانستان، انڈونیشیا، شام، فلسطین اور مصر کے معزز نمائندگان؛ ترک اداروں اور کمپنیوں کے نمائندگان؛ اور پاک ترک معارف انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر جناب ہارون کوچوکالاداغلی نے شرکت کی۔ ان معزز مہمانوں کی شرکت نے تعلیمی تعاون، ثقافتی تبادلے اور بین الاقوامی دوستی کی اہمیت کو مزید اجاگر تقریب کے دوران جمہوریہ ترکیہ کے بانی، عظیم رہنما مصطفیٰ کمال اتاترک کی لازوال خدمات اور تاریخی ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ 29 اکتوبر 1923 کو جمہوریہ ترکیہ کے قیام کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ نے خصوصی پرفارمنسز اور ثقافتی سرگرمیاں پیش کیں، جن میں ترکیہ کی تاریخ، روایات، قومی تشخص اور ثقافتی ورثے کی بھرپور عکاسی کی گئی۔ ان سرگرمیوں نے حاضرین کے لیے ایک یادگار اور دل چسپ تجربہ فراہم کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ وجیہہ قمر، وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا اور اس دیرینہ شراکت داری میں تعلیم کو ایک بنیادی ستون قرار دیا۔ انہوں نے تعلیمی معیار کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے میں ترک معارف فاؤنڈیشن کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے جدت، تعلیمی تعاون اور آنے والی نسلوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔عزت مآب ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے جمہوریہ ترکیہ کے قیام کے بعد سے اس کے تاریخی سفر پر روشنی ڈالی اور پاکستان و ترکیہ کے درمیان باہمی احترام، مشترکہ اقدار، اہم بین الاقوامی امور پر مسلسل حمایت اور عوامی سطح پر مضبوط روابط پر مبنی دیرینہ دوستی کی تجدید کی۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں تعلیم اور نوجوانوں کے کردار کو نمایاں کیا، بالخصوص ترک حکومتی اداروں میں وظائف کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے پاک ترک معارف کے طلبہ کے لیے دستیاب مواقع کا ذکر کیا۔عزت مآب محترمہ بوکت کوپ نے بھی تعلیم، ثقافتی تبادلے اور بین الاقوامی دوستی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل میں اپنی ثقافت اور ورثے سے وابستگی کے ساتھ ساتھ تنوع کے احترام اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینا ضروری ہے۔پاک ترک معارف انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر جناب ہارون کوچوکالاداغلی نے معیاری تعلیم، کردار سازی اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ادارے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ترک معارف فاؤنڈیشن کے قیام کی دسویں سالگرہ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور تعلیمی تعاون اور پاکستان و ترکیہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں فاؤنڈیشن کے کردار کو سراہا۔یہ کامیاب تقریب خاندانوں، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور سفارتی نمائندگان کو ثقافتی ہم آہنگی اور دوستی کے ماحول میں یکجا کرنے کا باعث بنی۔ اس تقریب نے پاکستان اور ترکیہ کے لازوال برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتے ہوئے پاک ترک معارف انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز کے معیاری تعلیم، بین الثقافتی ہم آہنگی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی توثیق کی۔ترک معارف فاؤنڈیشن (TMF) ترکیہ میں قائم ایک عوامی تعلیمی فاؤنڈیشن ہے، جس کے دنیا کے 66 ممالک میں 611 تعلیمی ادارے قائم ہیں، جہاں 75,000 سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ پاکستان میں دوطرفہ تعلیمی تعاون کے معاہدوں کے تحت اسے ترکیہ کی ایک سرکاری تنظیم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ فاؤنڈیشن پاک ترک معارف انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز (PTMISC) کے تحت پاکستان بھر میں 10 شہروں کے 27 کیمپسز میں تعلیمی خدمات فراہم کر رہی ہے، جہاں 13,000 سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔معیاری تعلیم اور طلبہ کی فکری، سماجی اور اخلاقی نشوونما کے لیے پُرعزم یہ تعلیمی نیٹ ورک بین الثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیمی تعاون اور عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔