اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان واٹر ویک 2026 کے دوران کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے قانون سازی، پارلیمانی نگرانی اور بجٹ میں ضروری فنڈز مختص کرنے کے ذریعے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے پانی کے تحفظ کو قومی ترجیح قرار دیا ہے۔انہوں نے پیر کے روز کانفرنس کے چھٹے ایڈیشن کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ پانی سے متعلق پالیسیاں عملی اقدامات میں تبدیل ہوں تاکہ کسان برادری اور سیلاب و پانی کی قلت سے متاثرہ آبادی کو حقیقی ریلیف مل سکے۔اسلام آباد میں 2 سے 6 نومبر تک جاری رہنے والی پانچ روزہ کانفرنس کا مقصد پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے غذائی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔ افتتاحی سیشن میں 200 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی سطح پر تین اہم شعبوں، قابلِ عمل قانون سازی، مؤثر نگرانی اور مستقل مالی معاونت کی نشاندہی کی۔ انہوں نے صوبائی آبی قوانین پر مکمل عملدرآمد اور زیر زمین پانی کے بہتر انتظام و انصرام پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آیا پانی سے متعلق پالیسیاں نہری نظام کے آخری سرے تک موجود کسانوں تک پہنچ رہی ہیں اور سیلاب کی پیشگی وارننگ بروقت دیہات تک پہنچائی جا رہی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں قدرتی آفات سے بچاؤ کے اقدامات کو بھی امدادی سرگرمیوں کے برابر ترجیح دی جانی چاہیے۔یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں اور پمپوں سے کسانوں کو ریلیف ملا ہے، تاہم زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر قواعد و ضوابط بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے زیر زمین آبی ذخائر کے محتاط استعمال، پانی کی سطح بحال کرنے کے منصوبہ بند اقدامات اور سیلابی پانی کو زیر زمین ذخائر کی بھرپائی کے لیے استعمال کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ قابلِ اعتماد اعداد و شمار کا تبادلہ صوبوں کے درمیان اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ خواتین، نوجوانوں اور کسان برادری کو بھی پانی کے انتظام میں فعال شراکت دار بنایا جانا چاہیے۔2010 کے سیلاب کے دوران بطور وزیراعظم اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کو ایک طرف تباہ کن سیلابوں جبکہ دوسری جانب پانی کی مسلسل کم ہوتی دستیابی جیسے دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب سے تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اور معاشی خسارہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال سیلاب سے بھی تقریباً 70 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ دوسری جانب فی کس پانی کی دستیابی 5 ہزار مکعب میٹر سے کم ہو کر تقریباً ایک ہزار مکعب میٹر رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ایک ہی سال کے دوران ایک ہی ضلع کو ضرورت سے زیادہ پانی اور پانی کی شدید قلت دونوں صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ محض ہنگامی ردعمل کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا تعمیر نو کے اقدامات مستقبل کے خطرات کم کر رہے ہیں یا پہلے سے موجود کمزوریوں کو دوبارہ جنم دے رہے ہیں۔یوسف رضا گیلانی نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ بدستور مؤثر اور قانونی طور پر پابند ہے اور پانی کو کبھی دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے 2047 میں پاکستان کی آزادی کی صد سالہ تقریبات تک ملک کو پانی کے تحفظ اور سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والی ریاست بنانے پر زور دیا۔اس موقع پر انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (آئی ڈبلیو ایم آئی) کے پاکستان میں کنٹری نمائندے ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ پانی کا تحفظ غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت اور معاشی استحکام سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے ہر سیشن میں ایک واضح عزم، ذمہ دار ادارے اور عملدرآمد کی مدت کا تعین ہونا چاہیے۔اپنے کلیدی خطاب میں آئی ڈبلیو ایم آئی کے اسٹریٹجک پروگرام ڈائریکٹر برائے پانی، خوراک اور ماحولیاتی نظام ڈاکٹر محسن حفیظ نے کہا کہ پاکستان کے پاس مسائل کے حل کے لیے خاطر خواہ شواہد اور تجاویز موجود ہیں، تاہم انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے مشترکہ عزم کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کیے جانے والے فیصلوں کے ثمرات کسانوں تک پہنچنے چاہئیں۔کانفرنس کا انعقاد انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ اور سی جی آئی اے آر پالیسی انوویشنز سائنس پروگرام نے پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز اور وزارت آبی وسائل کے اشتراک سے کیا ہے۔کانفرنس کے پروگرام میں دو موضوعاتی شعبے شامل ہیں، جن میں سے ہر ایک کے تحت 13 سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی شراکت داروں کی پانی اور موسمیاتی ترجیحات اور دریائے سندھ کے طاس میں آبی حکمرانی سے متعلق خصوصی اجلاس بھی ہوں گے۔ کانفرنس کی اختتامی تقریب 5 نومبر کو ہوگی، جبکہ مجموعی سرگرمیاں 6 نومبر تک جاری رہیں گی۔اپنے خطاب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کے عملی نتائج کا جائزہ اس حوالے سے لیں کہ ان سے تھر کے کسی کسان، دریائے راوی کے کنارے آباد خاندان یا کوئٹہ میں صاف پانی کے منتظر کسی بچے کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی۔