جرمن سفیر کا پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور، امن کے لیے سفارتی کوششوں کو سراہا

 

اسلام آباد: پاکستان میں جرمنی کی سفیر ڈاکٹر اِنّا لیپل نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے باہمی تعاون کے ذریعے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے بین الاقوامی رابطہ پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ کے تحت منعقدہ ایک انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جرمن سفیر نے پاکستان اور جرمنی کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 2017 میں بھی پاکستان میں خدمات انجام دے چکی ہیں اور اب بطور سفیر دوبارہ پاکستان آئی ہیں، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس عرصے میں دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں بہتری نہیں ڈاکٹر اِنّا لیپل نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی دونوں میں اقتصادی ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، اس لیے باہمی فائدے کے لیے تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو وسعت دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے جرمن سفیر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، بالخصوص حالیہ امریکہ ایران تناؤ کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے سفارتی اقدامات اور امن و مذاکرات کے فروغ کے لیے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ خطے میں پُرامن حل تلاش کرنے اور عدم استحکام کو روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کے حل اور مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے سفارت کاری ہی بہترین راستہ ہے۔جرمن سفیر نے پاکستانی طلبہ کے لیے جرمنی میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیمی اداروں، تحقیقی سہولیات اور سازگار تعلیمی ماحول کے باعث جرمنی پاکستانی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے پسندیدہ مقامات میں شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ جرمنی نے پاکستانی طلبہ کے لیے جاری کیے جانے والے ویزوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، تاہم درخواستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث بعض اوقات ویزوں کی کارروائی میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد موجود ہے، جس کے باعث بعض درخواستوں پر کارروائی میں زیادہ وقت لگتا ہے، تاہم طریقہ کار کو آسان اور مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انٹرایکٹو سیشن کے دوران صحافیوں نے پاکستان جرمنی تعلقات، تعلیمی مواقع، علاقائی سلامتی اور عالمی صورتحال سے متعلق مختلف سوالات کیے، جن کے جرمن سفیر نے تفصیلی جوابات دیے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں میڈیا، عوامی روابط اور تعلیمی تبادلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔تقریب کے اختتام پر نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرازق سیال نے جرمن سفیر کا صحافی برادری سے تبادلہ خیال کے لیے نیشنل پریس کلب آنے پر شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور جرمنی کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ نیشنل پریس کلب سفارت کاروں، پالیسی سازوں اور صحافیوں کے درمیان بامقصد مکالمے کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔