مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، چینی صدر

 

بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خلیجی خطے کو بڑی طاقتوں کی باہمی مسابقت اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کا میدان نہیں بننا چاہیے۔چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں سلطنت عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔چینی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کو بڑی طاقتوں کی رقابت اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کا مرکز نہیں بننا چاہیے، بلکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام فریقوں کو مشترکہ کوششیں اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چین عمان سمیت عرب ممالک اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے ساتھ رابطوں اور ہم آہنگی کو مزید فروغ دینے کے لیے تیار ہے تاکہ خطے میں جلد از جلد امن و سکون بحال اور دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔سلطان ہیثم بن طارق کا یہ دورہ 1978 میں چین اور عمان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد کسی بھی عمانی سربراہ مملکت کا چین کا پہلا دورہ ہے۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی حملوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع جاری ہے اور خطے کی صورتحال کشیدہ ہے۔