واشنگٹن: امریکی سیاسی مبصر اور سابق فاکس نیوز میزبان ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ چند روز کے اندر ایران پر جوہری حملہ کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو امریکی صدر پر ایران کی ایک مشتبہ جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ٹکر کارلسن نے اتوار کی شب امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں ایران کے وسطی علاقے میں واقع ’’پک ایکس ماؤنٹین‘‘ کو ممکنہ ہدف قرار دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے خیال میں ایران نے اس مقام پر جوہری افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔کارلسن کے مطابق اس مقام پر زیر زمین سرنگوں کو تقریباً 300 فٹ مضبوط گرینائٹ چٹانوں کا تحفظ حاصل ہے، جس کے باعث روایتی امریکی ہتھیار ان تک پہنچنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی صورت میں جوہری حملہ ہی واحد فوجی آپشن رہ جاتا ہے۔انہوں نے ایک نامعلوم باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا کہ نیتن یاہو اس معاملے پر روزانہ ٹرمپ سے رابطہ کرتے ہیں۔ٹکر کارلسن کا مزید دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے مزید فوجی کارروائیوں پر اصرار کے پیچھے ان کی سیاسی بقا کا معاملہ بھی کارفرما ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم حالیہ انتخابی نتائج کے بعد پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ کی مداخلت چاہتے ہیں، بصورت دیگر انہیں اقتدار سے محرومی، تحقیقات اور ممکنہ قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کارلسن نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر سمیت اعلیٰ امریکی حکام پر بھی بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کے بقول امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف بھی نیتن یاہو کے مؤقف کی پیروی کر رہے ہیں۔ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکانات پر تشویش کا شکار ہیں۔ان کے مطابق نیتن یاہو نے 27 ستمبر کو خفیہ طور پر ابوظہبی کا دورہ کیا تھا تاکہ متحدہ عرب امارات کو ایران پر حتمی حملے کی حمایت کے لیے آمادہ کیا جا سکے، تاہم اماراتی حکام نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔کارلسن نے خبردار کیا کہ آٹھ ماہ سے جاری تنازع نے خلیجی ممالک کی معیشتوں، عالمی توانائی منڈیوں اور کھاد کی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ صرف اکتوبر کے دوران آبنائے ہرمز میں دنیا کے تقریباً 850 بڑے آئل ٹینکروں میں سے 11 کو شدید نقصان پہنچا۔انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ پک ایکس ماؤنٹین پر جوہری دھماکے کے نتیجے میں خلیج کا علاقہ آلودہ ہو سکتا ہے اور تقریباً 10 کروڑ افراد کی پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔کارلسن کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران پر جوہری حملہ ایک خطرناک عالمی مثال قائم کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں روس یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر سکتا ہے، بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے اور شمالی کوریا جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول پر حملہ کر سکتا ہے۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں خبردار کیا کہ پہلے جوہری حملے کے بعد تیسری عالمی جنگ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا، جس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔کارلسن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے فروری سے امریکی جوہری پالیسی میں خاموشی سے تبدیلیاں کی ہیں، جن کے تحت میدان جنگ میں استعمال ہونے والے محدود طاقت کے جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ٹکر کارلسن کے مطابق صدر ٹرمپ 7 نومبر تک ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں، تاہم نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف انہیں تہران کے ساتھ سفارتی معاہدے کی کوششیں جاری رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔کارلسن نے تسلیم کیا کہ مذاکرات مشکل ہوں گے، تاہم ان کے مطابق ایرانی فیصلہ سازوں سے رابطے رکھنے والے افراد کا خیال ہے کہ مزید جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور معاہدے کی کوشش جاری رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری حملے کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلوں میں عالمی عوام کو بھی اپنی آواز بلند کرنی چاہیے، کیونکہ ان کے اثرات لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ٹکر کارلسن کے یہ دعوے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہفتے کے روز فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ مارالاگو میں صحافیوں سے گفتگو کے بعد سامنے آئے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات اب بھی ممکنہ اہداف ہیں اور امریکہ انہیں 10 منٹ کے اندر نشانہ بنا سکتا ہے۔ٹرمپ نے خاص طور پر پک ایکس ماؤنٹین کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس علاقے سے متعلق فوجی منصوبے موجود ہیں اور وہاں کارروائی بہت تیزی سے کی جا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے جوہری حملے کی منظوری دینے کا کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔اس سے قبل 16 اکتوبر کو نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو واضح طور پر مسترد کیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ انتظامیہ حساس فوجی منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرتی، تاہم صدر ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تمام ممکنہ آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔دوسری جانب ایران نے پک ایکس ماؤنٹین کے مقام پر کسی بھی جوہری سرگرمی کی تردید کی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے بھی واشنگٹن اور تل ابیب کو مزید حملوں کے خلاف خبردار کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو بالآخر ایران کو ’’زور دار ضرب لگانا‘‘ پڑ سکتی ہے، حالانکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔آئیووا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی مکمل نہ کرنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ مزید انسانی جانیں بچانے اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب امریکہ کو ایران کے خلاف سخت کارروائی کرنا پڑے۔اس سے قبل بھی ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران میں ایک یا دو اہداف اب بھی باقی ہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ تہران امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی جانب سے کسی نئی پیش رفت کی توقع نہیں رکھتا۔انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مذاکراتی وفد مذاکرات میں مشکلات کے باعث دوحہ سے واپس نہیں گیا۔ ان کے مطابق اتوار کے روز بھی امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری رہا جبکہ نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے دوحہ میں موجود تھے۔اسماعیل بقائی کے مطابق ایک مجوزہ معاہدے کا مسودہ متعلقہ فریقین کی آرا کے لیے گردش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں آئندہ اجلاس بھی ممکن ہے۔متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی سہیل المزروعی نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آئندہ رخ کے بارے میں پیش گوئی کرنا ممکن نہیں، تاہم ان کا ملک ماضی کے مقابلے میں زیادہ بہتر تیاری کر رہا ہے۔ابوظہبی انٹرنیشنل پیٹرولیم نمائش و کانفرنس (ADIPEC) سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض اوقات جنگ سے قبل کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات کی برآمدات کی صورتحال بہتر رہی ہے۔امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے اتوار کے روز امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے فوجی کارروائیوں کے مطالبے کے باوجود ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے ہفتے کے روز ٹیلی فونک گفتگو میں ٹرمپ پر زور دیا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جائیں، تاہم امریکی صدر جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے حق میں ہیں۔ذرائع کے مطابق نیتن یاہو ٹرمپ کے اس طرزِ عمل سے مطمئن نہیں۔ ایک اسرائیلی ذریعے نے دونوں رہنماؤں کی گفتگو کو سخت جبکہ امریکی ذریعے نے براہ راست قرار دیا۔ٹرمپ نے اتوار کے روز نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’’بہت اچھی گفتگو‘‘ قرار دیا، تاہم انہوں نے ایران سے متعلق بات چیت کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔