آزاد کشمیر اسمبلی کے اختیارات 13ویں آئینی ترمیم کے تحت کم نہیں کیے جا سکتے، وزیراعظم
اسلام آباد: وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی نے واضح کیا ہے کہ 13ویں آئینی ترمیم کے تحت قانون ساز اسمبلی کو منتقل کیے گئے اختیارات میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی حیثیت تبدیل کرنے سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔آزاد کشمیر بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ دو اضلاع تاحال قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی سے محروم ہیں، اس کے باوجود ریاست کی حیثیت سے متعلق غلط اور من گھڑت اطلاعات پھیلائی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئینی دفعات میں ترامیم ایک ارتقائی عمل ہے۔ 13ویں ترمیم کے بعد 14ویں اور 15ویں ترامیم بھی اسی تسلسل میں ایوان میں لائی گئیں۔ قانون ایک ارتقائی عمل ہے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اس میں ترامیم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد میں کوئی بھی ترمیم ایوان میں پیش اور اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کا مؤقف سننے کے لیے مذاکرات اور مکالمہ مہذب معاشرے کا طریقہ ہے۔ ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کو آگے لے جانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران دنیا تیزی سے ترقی کر چکی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ معمولی معاملات پر وقت ضائع کرنے کے بجائے عام آدمی کے مسائل پر بات کی جائے اور نظام کی بہتری کے لیے ٹھوس تجاویز دی جائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی ترجیحات میں سب سے اہم ریاستی اداروں پر عام شہری کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ انہوں نے قانون کمیشن کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بروقت انصاف کی فراہمی سے 90 فیصد مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر بار کونسل کو رہائشی منصوبے کے لیے اراضی فراہم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ وکلا کے تحفظ کا قانون (لائرز پروٹیکشن ایکٹ) آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کا بھی اعلان کیا۔